وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں پائیدار ترقی اور مؤثر حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے اورادارہ جاتی احتساب کو ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے۔
اسلام آباد میںآواز II پروگرام کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شفافیت، شراکت داری اور سماجی انصاف پاکستان کی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قوم عوام کی آواز شامل کیے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔
احسن اقبال نےاُڑان پاکستان فریم ورک کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ وژن تعلیم، برآمدات، ماحولیات، توانائی اور مساوات پر مبنی ہے، جس کا مقصدپاکستان کو جدید، پائیدار معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو ترقی کے عمل میں شامل کرنے کی حکومتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: 60 ہزار سے زائدادائیگی شدہ انٹرن شپس دی جا رہی ہیں، جن میں 10 ہزار بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ہیں۔ینگ ڈیولپمنٹ فیلو پروگرام کے ذریعے مستقبل کے پالیسی ماہرین تیار کیے جا رہے ہیں۔ 131 تعلیمی اداروں میں ینگ پیس اینڈ ڈویلپمنٹ کور قائم کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ “آواز II پروگرام” نے کمزور طبقات کو آواز دی اور پالیسی سازی کا حصہ بنایا، جوشراکتی حکمرانی کی بہترین مثال ہے۔ آخر میں انہوں نے زور دیا کہ اگرعوامی آواز کو پالیسیوں کا حصہ بنایا جائے تو پاکستان ایک شفاف، مضبوط اور منصفانہ معاشرہ بن سکتا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد