Jasarat News:
2026-07-24@05:38:39 GMT

قومی ایئرلائن اور کرپشن کی ایک ہی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یہ کہانی دراصل ہماری قومی ایئرلائن کی بربادی کی ہے، لیکن حقیقت میں یہ صرف ایک ادارے کی داستان نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے جس نے پورے ملک کو قرضوں اور ناکامی کی دلدل میں دھکیل دیا۔ کبھی یہ ایئرلائن ایشیا کی بہترین ایئر لائن سمجھی جاتی تھی، آج یہ کرپشن اور نااہلی کی علامت ہے۔نواز شریف کے دور میں ہزاروں غیر ضروری سیاسی بھرتیاں کی گئیں۔ ایسے لوگ شامل کیے گئے جنہیں ایوی ایشن کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ کئی بار جہاز کم اور ملازمین زیادہ دکھائی دیتے تھے۔ اسی دور میں مہنگی لیز پر جہاز لائے گئے جن کے معاہدوں میں کمیشن کی بازگشت عام تھی۔آصف زرداری کے دور میں ادارہ مزید دباؤ کا شکار ہوا۔ فنڈز ادارے پر لگنے کے بجائے مخصوص جیبوں میں جاتے رہے۔ پرانے جہاز کھڑے کھڑے زنگ آلود ہوتے گئے لیکن کاغذوں میں سب کچھ درست دکھایا جاتا رہا۔ کئی روٹس پر سیاسی دباؤ ڈال کر وہ فلائٹس چلائی گئیں جو سراسر خسارے کا سودا تھیں اور فائدے کے روٹس کمیشن اور کک بیک پر اونے پونے بیچ دیے گئے۔پرویز مشرف کے زمانے میں بھی ایئرلائن کو بیوروکریسی اور طاقتور حلقوں نے اپنی مرضی سے استعمال کیا۔ مفت ٹکٹوں اور رعایتی سہولتوں کا ڈھیر لگا، اور جو واجبات ادا کرنے تھے وہ آج تک بقایا ہیں۔ آڈیٹرز نے بار بار اربوں روپے کے بقایا جات رپورٹ کیے، مگر ادارہ وہ رقوم وصول نہ کر سکا۔
عمران خان کے دور میں شفافیت کی امید کی گئی، لیکن یہاں بھی من پسند افسران اور مشیروں کو نوازا گیا۔ ری اسٹرکچرنگ کے بڑے بڑے دعوے ہوئے مگر عملی طور پر ادارہ مزید دباؤ میں آگیا۔ بعض فیصلے انا اور ضد پر کیے گئے جن کا خمیازہ ادارے کو بھگتنا پڑا۔موجودہ حکومت نے ’’ہولڈ کو‘‘ اور ’’ٹاپ کو‘‘ بنا کر یہ تاثر دیا کہ خسارہ کہیں اور منتقل کر کے مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اربوں کا خسارہ صرف کاغذوں پر نئی کمپنیاں بنا لینے سے مٹ سکتا ہے؟ قرض وہی ہے، سود وہی ہے بلکہ سود پر سود بڑھ رہا ہے۔ حقیقت بدلی نہیں، یہ صرف اعداد و شمار کی جادوگری ہے جس کا بوجھ آخرکار عوام ہی کے کندھوں پر آتا ہے۔اسی دوران ایک اور ادارے کی مثال سامنے آتی ہے۔ پریسیشن انجینئرنگ کمپلیکس (PEC) جو برسوں تک قومی اثاثہ رہا، اسے بھی طاقتور حلقوں کو ’’شفاف طریقے‘‘ کے نام پر بیچنے کا عمل شروع ہوا۔ اصل شفافیت یہ تھی کہ ملازمین کو اعتماد میں لیے بغیر اور قومی اثاثے کی اصل مالیت ظاہر کیے بغیر، ایک ایسے ڈھانچے میں بدل دیا گیا جس میں طاقتور لوگ فائدے میں اور ادارہ و اس کے ملازمین نقصان میں چلے گئے۔ اربوں روپے مالیت کا یہ ادارہ ’’ریفارمز‘‘ اور ’’نجکاری‘‘ کے نام پر منتقل کر دیا گیا۔ یہ بھی وہی پرانی کہانی تھی کہ اصل ملکیت عوام کی تھی مگر اس پر قبضہ خاص حلقوں کا ہو گیا۔یہ سب ہمیں ایک تلخ حقیقت بتاتا ہے۔ دنیا میں اگر موازنہ کرنا ہو تو امریکی صدر جو بائیڈن کی مثال سامنے آتی ہے۔ اپنے بیٹے کے علاج کے لیے وہ اپنا واحد گھر بیچنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ ان کے پاس کوئی آف شور کمپنی، بیرون ملک محلات یا اربوں کے اثاثے نہ تھے۔ بائیڈن نے کہا تھا:’’No taxpayer’s money should ever be wasted‘‘ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ حکمران اپنی جاگیر سمجھ کر خرچ کرتے ہیں۔ قومی ایئرلائن اور پریسیشن انجینئرنگ کی کہانی اصل می پورے ملک کی تصویر ہے۔

عارف روہیلہ گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف