وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں پائیدار ترقی اور مؤثر حکمرانی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہر شہری کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جائے۔

انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ’’آواز ٹو پروگرام ‘‘کے افتتاحی سیشن سے خطاب کیا جس میں سماجی شمولیت، اداراجاتی احتساب، اور عوامی شرکت کے فروغ پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

احسن اقبال نے کہا کہ سماجی شمولیت اور ادارہ جاتی احتساب کو قومی ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اُس وقت تک حقیقی ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کی پالیسیوں میں عوام کی آواز شامل نہ ہو۔

ان کے مطابق، شفافیت اور شمولیت پائیدار حکمرانی کی بنیاد ہیں اور حکومت پاکستان ان اصولوں کو اپنی اصلاحاتی پالیسیوں کا حصہ بنا چکی ہے۔

احسن اقبال نے کہاکہ پاکستان کی ترقی میں ہر شہری اور ہر کمیونٹی کا کردار ناگزیر ہے۔

ہم عوام کی آواز کو پالیسی سازی کے مرکز میں لا کر ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ رہے ہیں جہاں ترقی صرف چند طبقات نہیں بلکہ سب کے لیے ہو۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آواز II پروگرام نے کمزور طبقات، خواتین، نوجوانوں ، اور معذور افراد کو پالیسی عمل میں شامل کر کے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔

انہوں نے اس پروگرام کو شراکتی طرزِ حکمرانی کی کامیاب مثال قرار دیا، جو نہ صرف سماجی انصاف بلکہ ادارہ جاتی شفافیت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے ملک کے ترقیاتی سفر کے لیے "اُڑان پاکستان ” کے نام سے ایک جامع فائیوایزفریم ورک تشکیل دیا ہے، جو تعلیم، برآمدات، ماحولیات، توانائی اور سماجی برابری کے ستونوں پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اُڑان پاکستان کا مقصد موجودہ چیلنجز کو مواقع میں بدل کر پاکستان کو مضبوط، پائیدار اور جدید معیشت بنانا ہے۔ برآمدات میں اضافہ، ڈیجیٹل معیشت کا فروغ، گرین انرجی، اور ماحول دوست پالیسیوں پر عملدرآمد اسی وژن کا حصہ ہے۔احسن اقبال نے زور دیا کہ نوجوانوں کو قومی ترقی کے عمل میں مرکزی کردار دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت منصوبہ بندی نے ملک کے 42 شہروں کے 131 تعلیمی اداروں میں ینگ پیس اینڈ ڈویلپمنٹ کور کے یونٹس قائم کیے ہیں تاکہ نوجوانوں کو امن، قیادت اور سماجی ترقی کے لیے تربیت دی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بااختیار نوجوان انٹرنشپ پروگرام کے تحت 60 ہزار سے زائد ادائیگی شدہ انٹرن شپس فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں سے 10 ہزار خصوصی طور پر بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے مختص ہیں۔

اسی طرح ینگ ڈیولپمنٹ فیلو پروگرام نوجوان پالیسی ماہرین کی ایک نئی نسل تیار کر رہا ہے، جو مستقبل میں قومی پالیسی سازی کا حصہ بنے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی نے چیمپئنز آف ریفارمز نیٹ ورک قائم کیا ہےجس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیں جو حکومت کو پالیسی اور اصلاحات کے معاملات پر پیشہ ورانہ مشاورت فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ یہ نیٹ ورک حکومت اور ماہرین کے درمیان ایک مضبوط پُل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے ساتھ مل کر سی ایس ایس امتحانات میں اردو زبان کو اختیاری مضمون کے طور پر متعارف کرانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ نوجوان اپنی قومی زبان میں اظہارِ خیال اور تجزیاتی صلاحیتوں کو بہتر طور پر پیش کر سکیں۔

وزیرِ منصوبہ بندی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آواز IIپروگرام کے کامیاب ماڈلز کو حکومتی نظام میں شمولیت کے ذریعے پائیدار بنایا جائے گا، تاکہ شراکتی ترقی اور سماجی انصاف کا عمل اداراجاتی سطح پر جاری رہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ اگر ہم عوام کی آواز کو اپنی پالیسیوں کا حصہ بنائیں، تو پاکستان ایک مضبوط، منصفانہ اور شفاف معاشرے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: احسن اقبال نے کہا کہ انہوں نے کے لیے کا حصہ

پڑھیں:

صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال

ملاقات کے دوران صدر آصف زرداری نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن، معاشی استحکام اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے اور مؤثر ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے وزراء نے بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات کی، جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح اور مجموعی انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران صدر مملکت نے بلوچستان میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بلوچستان کی ہمہ جہت ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ آصف علی زرداری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ عوام جلد از جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔ 

صدر مملکت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ملاقات میں صوبائی وزیر آبپاشی صادق عمرانی، وزیر منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیر صحت میر بخت کاکڑ، وزیر لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیر صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیر محنت غلام رسول عمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
  • نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان