فیکٹ چیک: امپیریل کالج لندن نے لاہور میں کیمپس کھولنے کے حکومتی دعوے کی تردید کر دی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
حکومتِ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ برطانیہ کا معروف تعلیمی ادارہ امپیریل کالج لندن، لاہور کے نواز شریف آئی ٹی سٹی میں نہ صرف اپنا کیمپس قائم کرے گا بلکہ اس کے ساتھ 300 بستروں پر مشتمل ایک جدید اسپتال بھی بنایا جائے گا۔ یہ دعویٰ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے 18 اکتوبر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر کیا، جسے بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی پارٹی کے آفیشل اکاؤنٹ سے ری پوسٹ کیا۔ سوشل میڈیا پر یہ بیان ہزاروں مرتبہ دیکھا گیا، سینکڑوں بار شیئر کیا گیا اور وسیع سطح پر زیرِ بحث رہا۔
تاہم اب اس دعوے کی حقیقت سامنے آ چکی ہے، اور وہ بالکل مختلف ہے۔ امپیریل کالج لندن نے باضابطہ طور پر ایک بیان جاری کر کے واضح کر دیا ہے کہ ان کا پاکستان، خصوصاً لاہور میں، کوئی کیمپس کھولنے کا نہ تو ارادہ ہے اور نہ ہی کوئی منصوبہ۔ 21 اکتوبر کو یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں امپیریل کالج نے ان خبروں کو “غلط رپورٹس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے تمام کیمپس صرف برطانیہ میں موجود ہیں اور بیرون ملک کیمپس کے حوالے سے کسی بھی قسم کی منصوبہ بندی موجود نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امپیریل کالج کے اس واضح انکار کے بعد بھی، حکومت پنجاب کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، البتہ مریم اورنگزیب نے اپنی اصل پوسٹ خاموشی سے حذف کر دی۔
بعد ازاں، لاہور کے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ، جہاں نواز شریف آئی ٹی سٹی واقع ہے، نے 22 اکتوبر کو ایک وضاحتی بیان جاری کیا، جس میں یہ کہا گیا کہ اصل منصوبہ امپیریل کالج لندن نہیں بلکہ امپیریل کالج ہیلتھ کیئر ٹرسٹ اور *نوواکئیر کے درمیان ایک اشتراک ہے۔ یہ ٹرسٹ برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے، اور یہ بات امپیریل کالج لندن سے مکمل طور پر الگ ہے۔
لہٰذا، یہ بات حتمی طور پر واضح ہو چکی ہے کہ لاہور میں امپیریل کالج لندن کا کوئی کیمپس نہیں کھولا جا رہا، اور سینیئر وزیر کی جانب سے کیا گیا دعویٰ درست نہیں تھا۔ ایسے میں سرکاری سطح پر شفافیت اور درست معلومات کی فراہمی کی اہمیت ایک بار پھر اجاگر ہوتی ہے، تاکہ عوام گمراہ کن بیانات کی بنیاد پر رائے قائم نہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امپیریل کالج لندن
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔