عمر ایوب کی نااہلی سے خالی نشست پر ضمنی انتخاب، پی ٹی آئی اور ن لیگ میں کانٹے دار مقابلے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
این اے-18 ہری پور کی نشست، جو عمر ایوب خان کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی، پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے ریٹرننگ افسر نوید الرحمان نے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی ہے، جس کے مطابق 13 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی درست قرار دیے گئے ہیں جبکہ ایک امیدوار کے کاغذات مسترد کر دیے گئے ہیں۔ ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ریٹرننگ افسر کی جانب سے جاری کردہ فارم 32 کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کی ارم فاطمہ ترک، مسلم لیگ (ن) کے بابر نواز خان، پیر صابر شاہ، سردار محمد مشتاق، اور صاحبزادہ حامد شاہ سمیت مختلف امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے شہرناز عمر ایوب کو میدان میں اتارا گیا ہے، جن کے کاغذات نامزدگی درست قرار دے دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ہری پور کی یونین کونسل کے چیئرمین عبدالرشید تنولی کے کاغذات مسترد کر دیے گئے ہیں۔ قبل ازیں پی ٹی آئی کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بابر نواز خان کے کاغذات پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے، تاہم ریٹرننگ افسر نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے بابر نواز کی نامزدگی برقرار رکھی۔
واضح رہے کہ یہ نشست سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کی 9 مئی کے مقدمات میں سزا اور اس کے نتیجے میں نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔ اب اس حلقے میں 23 نومبر کو ووٹنگ ہوگی، جہاں شہرناز عمر ایوب اور بابر نواز خان کے درمیان سخت مقابلے کی فضا بن چکی ہے، اور سیاسی حلقوں کی نظریں اس اہم ضمنی انتخاب پر مرکوز ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دیے گئے ہیں کے کاغذات بابر نواز عمر ایوب
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔