قم، گلتری بلتستان کے طلاب کی حجت الاسلام شیخ اکمل طاہری تنزانیہ کے ساتھ نشست
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
نشست کے شرکا نے حجت الاسلام شیخ اکمل طاہری کے علاوہ شنگوگلتری ویلفیئر آرگنائزیشن کے سرپرست اعلی اور آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی کے وکیل حجت الاسلام شیخ ذاکر مدبر کی بھی دلی قدردانی کی۔ اسلام ٹائمز۔ شنگوگلتری ویلفیئر آرگنائزیشن، قم المقدسہ کی جانب سے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ نشست کے مہمانِ خاص شنگوگلتری ویلفیئر آرگنائزیشن کے نائب سرپرستِ اعلیٰ حجت الاسلام شیخ اکمل طاہری (حال مقیمِ تنزانیہ) تھے۔ نشست کا آغاز حافظ آصف نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا۔ اس کے بعد شیخ اکمل طاہری نے گفتگو کرتے ہوئے اپنے درس میں طلبہ کی علمی صلاحیتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ ان کی معنوی اور اخلاقی تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ علم اور روحانیت کا حسین امتزاج ہی ایک کامل انسان اور کامیاب معاشرے کی تعمیر کی بنیاد ہے۔ درس کے بعد ہونے والی گفتگو میں انہوں نے گلتری بلتستان کے پسماندہ علاقے اور وہاں کی محروم عوام کے حوالے سے اپنا دلی درد اور احساسِ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے شنگوگلتری ویلفیئر آرگنائزیشن کے اہداف و مقاصد کو تفصیل سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد و محور علاقے کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم اور ہنر سے آراستہ کرنا اور گلتری کے باشندوں کو ایک باعزت اور باوقار قوم کے طور پر متعارف کرانا ہے۔ نشست میں موجود تمام برادران نے ان کے عظیم مشن اور ویلفیئر آرگنائزیشن کے بارے میں اپنے دلی تاثرات کا اظہار کیا۔ نشست کے شرکا نے حجت الاسلام شیخ اکمل طاہری کے علاوہ شنگوگلتری ویلفیئر آرگنائزیشن کے سرپرست اعلی اور آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی کے وکیل حجت الاسلام شیخ ذاکر مدبر کی بھی دلی قدردانی کی۔ اس موقع پر باہمی مشاورت سے برادر شیخ اکبر بوتراب کو شنگوگلتری ویلفیئر آرگنائزیشن کا صدر نامزد کیا گیا، جبکہ دیگر برادران نے نئی قیادت کے ساتھ تعاون کرنے کی بھرپور یقین دہانی کرائی۔4
حاضرین محفل نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حجت الاسلام شیخ اکمل طاہری اس پسماندہ خطے کے لیے خدا کی جانب سے ایک عظیم نعمت ہیں، ان کا عزم ہے کہ وہ گلتری کے نوجوانوں کو علم و ہنر کے زیور سے آراستہ دیکھیں اور اس علاقے کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر کے اسے ایک باعزت مقام پر پہنچائیں، ان کا یہ جذبہ محض مجالس و محافل تک محدود نہیں، بلکہ عملی میدان میں بھی نمایاں اور ٹھوس اقدامات کی صورت میں جلوہ گر نظر آتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
لاہور ہائیکورٹ(Lahore High Court) نے ایک حبسِ بے جا سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اہم فیصلہ دیتے ہوئے خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی، جس کے بعد عدالت کے باہر جذباتی اور افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے۔
تفصیلات کے مطابق درخواست گزار غلام حسین نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو ان کے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت خاتون کو بازیاب کرا کر انہیں ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دے۔
سماعت کے دوران شبنم بی بی عدالت کے روبرو پیش ہوئیں اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کر چکی ہیں اور اپنی مرضی سے ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے اس بیان اور قانونی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
مزیدپڑھیں:سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
عدالتی فیصلے کے فوراً بعد عدالت کے احاطے میں صورتحال جذباتی ہو گئی۔ شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی آٹھ بیٹیاں شدید رنج و غم میں مبتلا ہو گئیں اور دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔ اس موقع پر وہاں موجود افراد بھی افسردہ نظر آئے۔
بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ان کے لیے شدید صدمے کا باعث بنا ہے۔
عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے دوسرے شوہر غلام حسین کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہو گئیں، جبکہ متاثرہ خاندان کی جانب سے اس فیصلے پر شدید جذباتی ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے اور خاندانی معاملات، عدالتی فیصلوں اور جذباتی اثرات پر بحث جاری ہے۔
https://mnews.pk/wp-content/uploads/2026/06/crying.mp4