اکبر ایس بابر اور محمود اچکزئی—فائل فوٹوز

پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنا قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔

ایک بیان میں اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ اب اسپیکر قومی اسمبلی اور حکمراں جماعت کا امتحان ہے۔

یہ بھی پڑھیے اکبر ایس بابر نے وفاق سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کردیا پی ٹی آئی نے محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی، ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنانے کی منظوری دیدی

پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی رہنما نے یہ بھی کہا ہے کہ اب مزید غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی اور علامہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنانے کی منظوری دے دی ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے محمود خان اچکزئی کو نیا اپوزیشن لیڈر بنانے کی حمایت کی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے محمود اچکزئی کو نیا اپوزیشن لیڈر بنانے اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کی حمایت کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر بنانے اکبر ایس بابر محمود اچکزئی اچکزئی کو

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ