محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے: اکبر ایس بابر
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
اکبر ایس بابر اور محمود اچکزئی—فائل فوٹوز
پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنا قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔
ایک بیان میں اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ اب اسپیکر قومی اسمبلی اور حکمراں جماعت کا امتحان ہے۔
یہ بھی پڑھیے اکبر ایس بابر نے وفاق سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کردیا پی ٹی آئی نے محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی، ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنانے کی منظوری دیدیپاکستان تحریکِ انصاف کے بانی رہنما نے یہ بھی کہا ہے کہ اب مزید غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی اور علامہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنانے کی منظوری دے دی ہے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے محمود خان اچکزئی کو نیا اپوزیشن لیڈر بنانے کی حمایت کی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے محمود اچکزئی کو نیا اپوزیشن لیڈر بنانے اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کی حمایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر بنانے اکبر ایس بابر محمود اچکزئی اچکزئی کو
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔