معاندانہ امریکی پالیسی کیخلاف ایرانی سپریم لیڈر کے اصولی موقف کی عالمی سطح پر پذیرائی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
غیر ایرانی سائبر صارفین نے رہبر انقلاب اسلامی کے گذشتہ روز کے اس بیان کیساتھ مکمل اتفاق کیا ہے کہ امریکہ کو دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیئے اسلام ٹائمز۔ عالمی سائبر صارفین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ایران سمیت دنیا بھر کے دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اس حوالے سے اپنے دلچسپ تبصروں میں عالمی صارفین نے امریکہ کی جانب سے جوہری بموں کے بے دریغ استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے، پرامن ایرانی جوہری پروگرام میں مداخلت سے متعلق اس کی "اہلیت" پر سوال اٹھایا ہے۔
گذشتہ روز گولڈ میڈلسٹ ایرانی نوجوانوں کے ساتھ ملاقات کے دوران رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے تاکید کی تھی کہ تم کون ہوتے ہو کہ اگر کسی ملک کے پاس جوہری صنعت ہو تو تم اس کے لئے "کیا کرنا چاہیئے" اور "کیا نہیں کرنا چاہیئے" کا تعین کرو؟
اس بارے اپنے تبصروں میں عالمی صارفین کا لکھنا ہے: صفر قانونی حیثیت، درحقیقت
امریکہ کو خود امریکی نہیں چلاتے خودمختار ممالک (کے اندرونی معاملات) میں امریکی مداخلت؛ امریکی عوام کے وسائل کو تباہ کر ڈالنا ہے اور یہی وجہ ہے آج امریکہ تیسری دنیا کا ملک (بن چکا) ہے۔
دھوکہ و فریب پر مبنی دعووں اور عناوین تحت برائی، اخلاقی پستی اور انسانی فطرت سے دشمنی کے کلچر کو فروغ دینے اور پھیلانے کے لئے انہیں غنڈہ گردی اور دھوکہ دہی کے سوا، کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں!
وائلڈ ویسٹ (جنگلی مغرب) کے قانون کے علاوہ کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی برتری، یہ بات یقینی ہے
وہ درست سوال اٹھا رہے ہیں، امریکہ کو اپنی حرکتوں کا خیال رکھنا چاہیئے
ماضی کو دیکھو، حال کو دیکھو، مستقبل کو دیکھو۔ امریکہ اور اسرائیل کی تاریخ کیا ہے؟ تباہ کن قتل و غارت کی جنگیں اور فرقہ وارانہ و مذہبی تنازعات کے لئے انتہا پسند گروہوں کی حمایت۔ کیا اس تاریخ کے حامل ممالک کو دوسروں کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے؟
وہ مکمل طور پر درست کہتے ہیں، امریکی صیہونیوں؛ نازی فاشسٹوں کی تاریک دنیا کے لیڈر، آزاد دنیا کے ممالک کے بارے کبھی فیصلہ نہیں کریں گے۔
امریکہ وہ واحد ملک ہے کہ جس نے کبھی انسانوں کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کئے ہیں۔
امریکی سیاستدانوں نے جاپان میں معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔
ہیروشیما اور ناگاساکی میں
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکہ کو
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔