امریکی شہریت و امیگریشن خدمات (USCIS) نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ وہ طلبہ اور دیگر ویزا ہولڈرز جنہوں نے امریکا میں رہتے ہوئے ویزا کی حالت تبدیل کی ہے، اُن پر ایک لاکھ ڈالر کی اضافی H-1B درخواست فیس لاگو نہیں ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی شہریت و امیگریشن خدمات (USCIS) نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ وہ طلبہ اور دیگر ویزا ہولڈرز جنہوں نے امریکا میں رہتے ہوئے ویزا کی حالت تبدیل کی ہے، اُن پر ایک لاکھ ڈالر کی اضافی H-1B درخواست فیس لاگو نہیں ہو گی۔ اس فیصلے کو خاص طور پر اُن انٹرنیشنل طلبہ کے لیے خوشخبری تصور کیا جا رہا ہے جو امریکا کے کالج یا یونیورسٹی سے حال ہی میں فارغ التحصیل ہوئے ہیں اور جنہیں H-1B ویزا کے تحت اسپانسر کیا جا رہا ہے۔ یو ایس سی آئی ایس نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اضافی فیس کا اطلاق اُن نئی H-1B درخواستوں پر ہو گا جو 21 ستمبر 2025ء کے بعد دائر کی گئی ہوں اور جن کے منظور ہونے کے بعد مستقبل میں امریکا میں داخلے کے لیے درخواست دی جائے گی یا درخواست کنندہ اس وقت امریکا کے اندر موجود نہیں ہے۔ درخواست کنندہ اگر امریکا میں موجود ہے اور اس کا ویزا (مثلاً F-1 طلبہ ویزا یا L-1 منتقلی ویزا) پہلے سے اس کے پاس موجود ہے اور وہ اس کی حیثیت تبدیل کرنے (change of status) یا داخلے کی توسیع (extension) کے ذریعے H-1B پر منتقل ہو رہا ہے تو وہ اِس اضافی فیس کے دائرے سے باہر ہے۔ مزید یہ کہ اگر درخواست داخل کرنے والا فرد امریکا سے باہر ہے، یا یہ درخواست اس صورت میں دی گئی ہے کہ حتمی منظوری کے بعد درخواست کنندہ کو امریکا داخلہ کے لیے جانا پڑے گا، یا کنسولر نوٹیفکیشن چاہیے، ایئرپورٹ پر انٹری نوٹیفکیشن چاہیے، یا فلائٹ چیک سے گزرتا ہے تو اس صورت میں وہ اضافی فیس کے تحت آئے گا۔ یو ایس سی آئی ایس نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا کہ کوئی جامع رعایت (blanket waiver) جاری نہیں کی گئی ہے، البتہ ملازمین یا کمپنیاں درخواست دے سکتی ہیں کہ اگر ملازمت امریکی مفاد میں ہو اور امریکی شہری اِس جاب کے لیے دستیاب نہ ہو تو اسے استثنیٰ دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکا میں کے لیے

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان