پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا گیا۔
اپوزیشن کی جانب سے درخواست باضابطہ طور پر سیکرٹری قومی اسمبلی مشتاق کے آفس میں جمع کروا دی گئی۔ چیف وہپ عامر ڈوگر، اسد قیصر اور دیگر رہنما نے درخواست جمع کروائی۔
اپوزیشن کے 74 اراکین نے محمود خان اچکزئی کو بطور اپوزیشن لیڈر نامزد کیا۔
پی ٹی آئی کے تین اراکین ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے درخوست پر دستخط نہ کر سکے۔ علی افضل ساہی، عمر فاروق اور صاحبزادہ محبوب سلطان ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے درخواست پر دستخط نہ کر سکے۔
قتل میں ملوث اشتہاری ملزم سعودی عرب سے گرفتار
اسپیشل سیکرٹری قومی اسمبلی مشتاق نے درخواست موصول کر لی جبکہ ایڈوائزر آفس نے درخواست کو ڈائری نمبر لگا دیا۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔