معدنیات کے تاجروں کیخلاف غیر قانونی کارروائیاں ناقابل برداشت ہیں، سید علی رضوی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے صدر نے ایک بیان میں کہا کہ وفاقی ادارے اور حکومت گلگت بلتستان میں بھی بلوچستان جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صدر سید علی رضوی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے معدنیات اور زمینی وسائل پر مقامی عوام کا مکمل حق ہے اور کوئی ادارہ یا فرد ان حقوق پر تسلط نہیں جما سکتا۔ جو بھی ادارہ یا افراد مقامی زمینوں اور معدنیات پر غیر قانونی یا ظالمانہ قبضہ کرنے کی کوشش کرینگے تو مقامی لوگ ان کیخلاف سخت ردعمل دینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ راتوں رات معدنیات سے وابستہ افراد کیخلاف غیر قانونی کارروائیاں ناقابل برداشت ہیں، حکومت اور متعلقہ ادارے مقامی تاجروں اور کارکنان کو تنگ کرنے کا سلسلہ بند کریں۔ انہوں ںے اس عمل کو علاقے کے امن و استحکام کیخلاف سازش قرار دیا اور کہا کہ وفاقی ادارے اور حکومت گلگت بلتستان میں بھی بلوچستان جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش نہ کریں۔ بلوچستان میں معدنیات اور قدرتی وسائل کے حوالے سے مقامی لوگوں کو حقوق سے محروم رکھنے سے مسائل پیدا ہوئے اور اس قسم کی صورتحال یہاں برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں موجود وسائل کی تقسیم اور مقامی آبادی کے ساتھ سلوک سے سبق لیا جانا چاہیے تاکہ گلگت بلتستان میں کشیدگی پیدا نہ ہو۔ سید علی رضوی نے وزیر اعظم اور وفاقی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے صدر کو امن ایوارڈ دینے کی سفارش غلامی کی بدترین مثال ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کہا کہ
پڑھیں:
نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ نواز شریف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن سے این او سی لیکر وہاں گئے تھے، کوئی حکومتی وزیر گلگت بلتستان نہیں گیا نہ کسی نے وہاں مہم چلائی۔
پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان گلگت بلتستان میں جلسے کر رہے ہیں، میٹنگز کر رہے ہیں انہیں تو کوئی نہیں روک رہا۔
رانا ثنا نے کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر خان اجازت لیکر جا سکتے ہیں تو سلمان اکرام راجا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا کوئی اُمیدوار مقابلے میں ہے ہی نہیں، وہاں صاف، شفاف اور کریڈیبل انتخابات ہونگے۔