سعودیہ سے تعلقات نہیں چاہتے، وہ صحرا میں اونٹوں پر گھومتے رہیں؛ اسرائیلی وزیر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
اسرائیل کے وزیرِ خزانہ، سخت گیر یہودی بیتزالیل اسموٹریچ نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر متنازع بیان دیا ہے جسے خود ان کی حکومت نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے وزیرِ خزانہ اور دائیں بازو کی مذہبی جماعت ریلیجیس صہیونزم پارٹی کے سربراہ بیتزالیل اسموٹریچ نے سعودی عرب سے تعلقات کی بحالی کے امکان کو سخت الفاظ میں رد کردیا۔
انھوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کے بدلے میں ہمیں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا پڑے گا تو وہ اس معاہدے کو قبول نہیں کریں گے۔
اسرائیلی وزیر نے توہین آمیز انداز میں کہا کہ اگر سعودی عرب کہتا ہے کہ فلسطینی ریاست کے بدلے تعلقات معمول پر لائیں۔۔ تو نہیں، شکریہ۔ وہ سعودی عرب کے صحرا میں اونٹ پر سواری جاری رکھیں اور ہم اپنی معیشت، معاشرے اور ریاست کو ترقی دیتے رہیں گے۔
یہ بیان انہوں نے جمعرات کو یروشلم میں منعقدہ ایک کانفرنس میں دیا، جس کا اہتمام زومیٹ انسٹیٹیوٹ اور مکور ریشون اخبار نے کیا تھا۔
وزیر خزانہ کے اس بیان کو اسرائیل کے اپوزیشن رہنماؤں نے جہالت، سفارتی نقصان اور قوم کی بدنامی قرار دیا۔
قائد حزبِ اختلاف یائیر لپید نے ایک پوسٹ میں کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت مشرقِ وسطیٰ میں تبدیلی لانے کے بجائے سوشل میڈیا کے نچلے درجے کے صارفین کی طرح زبان استعمال کر رہی ہے۔ یہ ملک کی رہنمائی نہیں، تباہی ہے۔
انھوں نے عربی زبان میں کی گئی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ اپنے سعودی اور مشرقِ وسطیٰ کے دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وزیر خزانہ اسموٹریچ پورے اسرائیل کی نمائندگی نہیں کرتے۔
دوسری جانب یائیر گولان (ڈیموکریٹس پارٹی) نے وزیر خزانہ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ وہی سوچ ہے جس نے 7 اکتوبر 2023 کے واقعے کو جنم دیا تھا۔
سعودی عرب سے تعلقات مسترد کرنا دراصل حماس کو انعام دینے کے مترادف ہے تاکہ وہ غزہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے۔
بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے سربراہ بینی گینٹز نے کہا کہ یہ بیان لاعلمی اور حکومتی ذمہ داری کے فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو شدت پسندی سے آزاد ہو اور مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہو، نہ کہ لائکس کی سیاست کرے۔
عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد اسرائیلی وزیر خزانہ نے اپنے بیان پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میری سعودی عرب سے متعلق بات بالکل نامناسب تھی اور میں اس سے پہنچنے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہوں۔
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ میں یہ بھی توقع کرتا ہوں کہ سعودی عرب ہماری تاریخ، وراثت اور یہودی عوام کے اپنے تاریخی وطن پر حق کو تسلیم کرے اور ہمارے ساتھ حقیقی امن قائم کرے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ نے ایک بل کی ابتدائی منظوری دی ہے جس کے تحت مغربی کنارے کے یہودی بستیوں کو اسرائیل میں ضم کرلیا جائے گا۔
اس بل کی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور ان کی لیکود پارٹی نے مخالفت کی تھی تاہم حکومت کے دائیں بازو کے اتحادی اس کے حامی ہیں۔
خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے انضمام کی اجازت نہیں دیں گے۔
امریکی صدر نومبر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کرنے والے ہیں، جہاں اسرائیل-سعودی تعلقات کی بحالی اہم ایجنڈا ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔