فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے کمپوزٹ سرکل میرپورخاص نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے فنڈز میں خردبرد میں ملوث گروہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ کارروائی کے دوران 21 ملزمان کو حراست میں لیا گیا جن میں بی آئی ایس پی کے 3 اہلکار بھی شامل ہیں۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار سرکاری اہلکاروں میں شاہنواز، سہیل ایوب اور اشفاق حسین شامل ہیں، جبکہ دیگر ملزمان میں احسن علی، امر سنگھ، شہزاد علی، نعیم، گیان، خمیسو، امان اللہ، سفیر انور، کنور، جاوید علی، نارائن، جعفر علی، محمد بخش، جمن، عبدالحمید، رجب اور کاشف علی شامل ہیں۔

کارروائی میرپورخاص کے ناگوری ہال میں واقع بی آئی ایس پی سینٹر پر کی گئی جہاں سے 9 ڈیوائسز، 2 سلیکون انگوٹھوں کے امپریشن، گلو گن مشین، گلو بارز اور 25 لاکھ 30 ہزار روپے نقد برآمد ہوئے۔

مزید پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے جعلی ٹریفک چالان تک، اسکیمرز شہریوں کو کیسے لوٹ رہے ہیں؟

ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان مستحقین کی رقوم میں سے فی کس 1500 سے 2000 روپے غیر قانونی طور پر کاٹتے تھے، جبکہ یہ رقوم بی آئی ایس پی افسران اور فرنچائز مالکان کو بطور رشوت ادا کی جاتی تھیں۔

مزید یہ کہ ادائیگی سے انکار کرنے والے مستحقین کی آئی ڈی بلاک کر دی جاتی تھی۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ ان کی نشاندہی پر مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

bisp ایف آئی اے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بی آئی ایس پی

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان