چیف جسٹس سندھ و بلوچستان ہائیکورٹس کی تقرری کی منظوری، جوڈیشل کمیشن اجلاسوں کا اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت ہوئے جوڈیشل کمیشن اجلاسوں کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاسوں میں جسٹس ظفر احمد راجپوت کو سندھ ہائی کورٹ اور جسٹس کامران خان ملاخیل کو چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ لگانے کی منظور دی گئی۔
جوڈیشل کمیشن اجلاس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ کا مستقل جج لگانے کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں چاروں ہائی کورٹس کے مستقل چیف جسٹسز کی تقرری پر غور کیا جائے گا۔
جوڈیشل کمیشن نے رولز میں ترامیم کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی، وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس عامر فاروق کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔
اٹارنی جنرل، فاروق ایچ نائیک، بیرسٹر علی ظفر اور احسن بھون کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
یہ کمیٹی جوڈیشل کمیشن رولز میں ترامیم کا مسودہ تیار کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔