ٹی ایل پی پابندی کے باوجود انتخابات لڑنے کی اہل، الیکشن کمیشن کی فہرست میں بدستور شامل
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
ٹی ایل پی پابندی کے باوجود انتخابات لڑنے کی اہل، الیکشن کمیشن کی فہرست میں بدستور شامل WhatsAppFacebookTwitter 0 25 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وفاقی وزارتِ داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان پر انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کر دی ہے۔ تاہم، پابندی کے باوجود تحریک لبیک پاکستان الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی فہرست میں بدستور شامل ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جمعے کے روز جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے نزدیک تحریک لبیک پاکستان دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے، اس لیے اسے انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی شق 11 (بی)ذیلی شق 1(اے)کے تحت کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد کیا گیا، جس سے قبل پنجاب حکومت نے مریدکے میں 13 اکتوبر کو ہونے والے پرتشدد احتجاج اور پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد ٹی ایل پی پر پابندی کی سفارش وفاق کو بھیجی تھی۔تاہم ذرائع وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی پر یہ پابندی آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت نہیں بلکہ صرف دہشتگردی ایکٹ کے تحت لگائی گئی ہے۔ اس لیے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں کوئی ریفرنس دائر کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ پابندی کے باوجود تحریک لبیک پاکستان الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی فہرست میں بدستور شامل ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق کسی سیاسی جماعت پر باضابطہ پابندی صرف آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت ریفرنس بھیج کر لگائی جا سکتی ہے، جو الیکشن ایکٹ کی شق 212 کے تحت عمل میں آتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ ٹی ایل پی پر پابندی انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت لگائی گئی ہے، اس لیے سیاسی طور پر یہ جماعت اب بھی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے اور موجودہ قوانین کے مطابق عام انتخابات میں حصہ لینے کی اہل ہے۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن اس معاملے پر تفصیلی مشاورت پیر کے روز کرے گا تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمحسن نقوی سے پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو محسن نقوی سے پولینڈ کے نائب وزیر داخلہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈپلومیٹک انکلیو میں پیڈل ٹینس کورٹ و فٹنس ایرینا کا افتتاح کر دیا سی ڈی اے کے ون ونڈو ڈائریکٹوریٹ میں باقاعدہ طور پر کیش لیس نظام نافذ العمل پاک افغان مذکرات ناکام ہوئے تو افغانستان سے کھلی جنگ ہوگی، خواجہ آصف ایس پی عدیل اکبر کی طبی بنیاد پر چھٹی منظور کی جاچکی تھی،پولیس ذرائع منی لانڈرنگ کیس: پرویز الہٰی کی بریت کی درخواست پر فیصلہ مؤخرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی فہرست میں بدستور تحریک لبیک پاکستان پابندی کے باوجود دہشتگردی ایکٹ الیکشن کمیشن ٹی ایل پی کے مطابق کے تحت
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن