حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے مؤثراقدامات کر رہی ہے،عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
علی پور چٹھہ: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے مؤثر اور فوری اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد معاوضہ اور امداد فراہم کی جا سکے۔
عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کا کیس ہے، اور اس کا جواب ریاستِ مدینہ کے نعرے نہیں ہو سکتے۔ “سوال یہ ہے کہ ملک ریاض کو اتنی بڑی رعایت کیوں دی گئی، یہ قوم کا پیسہ تھا،” انہوں نے کہا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تصویروں کی صفائی کرنا یا جیل کے باہر سڑکوں پر بیٹھنا کسی وزیر اعلیٰ کے منصب کے شایانِ شان نہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے خلاف اہم شواہد وفاقی کابینہ کو بھیجے گئے ہیں۔
عطا تارڑ کے مطابق، “ٹی ایل پی کے خلاف دہشت پھیلانے کے کافی شواہد پنجاب حکومت نے فراہم کیے ہیں۔ مریدکے میں شہید ایس ایچ او کو 21 گولیاں ماری گئیں، جو اس شدت پسندی کا ثبوت ہے۔”
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عطا تارڑ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔