ڈی جی آئی ایس پی آر نے میرے خلاف پریس کانفرنس کی‘ وفاقی وزرا نے گھٹیا الزامات لگائے‘وزیر اعلی خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پشاور آکر پریس کانفرنس کی، وفاقی وزرا نے غلیظ اور گھٹیا الزامات لگائے‘میں نے مہذب طریقے سے ان کے الزامت کا جواب دیا۔ کرک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں سب کو سلام کہتا ہوں کرک والوں پشتونوں کی تاریخ بدلے گی‘ جس مقصد کے لیے جلسہ اور جرگے بلائے ہیں اس پر بات کریں گے، بانی پی ٹی آئی نے میرا نام جب لیا تو کچھ لوگوں نے مجھ پر اعتراض کیا، پہلے ہمیں اس ایوان کا حصہ نہیں بننے نہیں دیا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے جس کے ساتھ بھٹو اور شریف جیسے الفاظ تھے، وہ صرف ایوان تک آتے تھے، مجھ پر الزامات لگائے گئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہوم ڈپاٹمنٹ نے خط لکھا اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات کروائیں، وزیر اعظم سے بانی پارٹی سے ملاقات کرانے کا کہا لیکن انہوں نے کہا کہ پوچھ کر بتاتا ہوں‘ پھر میں نے وزیر اعظم سے میٹنگ کے لیے کہا کہ میں بانی پارٹی سے پوچھ کر بتاتا ہوں، مجھ کو ناکام کرنے کی کوشش کریں گے‘ میرے اعصاب مضبوط ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم دلیر ہیں، ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں، ان کے بڑے بڑے بابے نے کیا تیر مارا ہے، یہ نوجوان ڈلیور کرے گا، میں 36 سال کا ہوں، میں ڈلیور کروں گا، آپ باہر ملکوں میں فلیٹ خریدیں گے، آپ نہیں ڈلیور کرسکتے ہم ڈلیور کرکے رہیں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن لے کر رہیںگے، پولیس کے لیے جدید اسلحہ خریدیں گے، بلٹ پروف گاڈیاں خریدیں گے‘ پولیس، اسپیشل برنچ، انٹلی جنس پر انوسٹ کریں گے، گوڈ گورننس ضروری ہے‘ خیبر پختونخوا کے 4 ریجن کے لیے پیکج کا اعلان جلد کریں گے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے، تمام سرکاری ملازمین عوام کے نوکر ہیں، میرے پروٹوکول کے لیے راستہ بند نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بند کمروں یہ جوش دیکھ لیں، انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن تحریک انصاف کے لیے لیڈرشپ دے رہی ہیں، کرک کے لیے اسکالرشپ دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا وزیر اعلی نے کہا کہ کریں گے کے لیے
پڑھیں:
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا خراب کارکردگی کے حامل فیلڈ افسران کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کا حکم
وفاقی وزیر برائے توانائی، سردار اویس احمد خان لغاری(Awais Leghari) نے ملک بھر کی تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنی حدود میں خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سب ڈویژنل افسران (SDOs) اور ایکسیئن (XENs) کے خلاف فوری طور پر تادیبی کارروائی کا آغاز کریں۔
وفاقی وزیر کی ان ہدایات پر برق رفتاری سے عمل درآمد کرتے ہوئے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیسکو) نے پہل کی ہے۔ ان دونوں کمپنیوں نے قومی ‘118 کال سینٹر سسٹم’ (CCMS PLUS) پر درج ہونے والی صارفین کی شکایات کے ازالے میں ناکامی اور غفلت برتنے پر اپنے خراب کارکردگی کے حامل افسران کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی ہے۔
پاکستان کی دیگر تمام تقسیم کار کمپنیاں بھی اپنے اپنے دائرہ اختیار میں ایسے ہی نااہل افسران کے خلاف تادیبی اقدامات کے عمل کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔وفاقی وزیر کی جانب سے یہ احکامات کسٹمر کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم (CCMS PLUS) یعنی پاکستان کے قومی 118 کال سینٹر سے حاصل کردہ ڈیٹا کے جامع اور ذاتی جائزے کے بعد جاری کیے گئے۔ یہ ڈیٹا یکم اکتوبر 2025 سے 31 مارچ 2026 تک کی مدت پر محیط ہے۔
لوڈ شیڈنگ, وولٹیج کے اتار چڑھاؤ، لائن فالٹس اور ٹرانسفارمر ٹرپنگ جیسی شکایات کے اس ریکارڈ سے افسران کی مجرمانہ غفلت کا ایک انتہائی تشویشناک رجحان سامنے آیا۔ جائزے کے دوران یہ پایا گیا کہ صارفین کی ہزاروں شکایات یا تو مقررہ وقت کے بعد حل کی گئیں یا انہیں بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں شہری اور دیہی علاقوں کے عوام کو طویل عرصے تک بجلی کی بندش کا عذاب جھیلنا پڑا۔
پاور ڈویژن نے شکایات کے ازالے میں سب سے زیادہ تاخیر کرنے والے افسران کی نشاندہی کر کے فہرستیں تیار کیں اور فوری محکمانہ کارروائی کے لیے انہیں تمام ڈسکوز کے چیف ایگزیکٹوز کو ارسال کر دیا۔وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے صارفین کی شکایات کا بروقت ازالہ کرنے جیسے بنیادی فرائض میں ناکامی پر نامزد افسران کے رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔
مزیدپڑھیں:ویمنز ٹرائنگولر سیریز، پاکستان کے لیے فائنل تک رسائی مشکل
انہوں نے واضح کیا کہ 118 کال سینٹر پلیٹ فارم کا قیام بالخصوص اس لیے عمل میں لایا گیا تھا تاکہ عوام اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان فاصلوں کو ختم کیا جا سکے، اور جو بھی افسر اس نظام کے ساتھ سرد مہری برت رہا ہے وہ براہِ راست عوامی فلاح و بہبود کے حکومتی عزم کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان تمام نشاندہی شدہ افسران کے خلاف بلا تاخیر تادیبی کارروائی (بشمول معطلی) شروع کی جائے اور مروجہ سروس رولز کے تحت اسے مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
اس سلسلے میں پیسکو نے فرائض میں غفلت اور طے شدہ اہداف حاصل نہ کرنے پر 3 ایس ڈی اوز اور 1 ایکسیئن کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ معطل ہونے والے ایس ڈی اوز پشاور سرکل کے تحت گلبرگ، شاہی باغ اور سیٹھی ٹاؤن/دلیزاک سب ڈویژنز میں تعینات تھے، جنہیں اب روزانہ حاضری کے لیے جنرل مینیجر (آپریشنز) پیسکو ہیڈ کوارٹرز کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح مردان-I ڈویژن کے معطل ایکسیئن کو سپرنٹنڈنگ انجینئر (آپریشنز) مردان سرکل کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ مزید برآں، صوابی-I ڈویژن کے ایکسیئن (آپریشنز) کو بھی بدعنوانی اور ناقص کارکردگی پر معطل کر کے سپرنٹنڈنگ انجینئر (آپریشنز) پشاور سرکل کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔ یہ احکامات مجاز اتھارٹی/سی ای او پیسکو کی منظوری سے جاری کیے گئے ہیں۔
سیپکو نے بھی 118 کال سینٹر پر شکایات کے ازالے میں خراب کارکردگی دکھانے پر 1 ایس ڈی او اور 1 (سابقہ) ایکسیئن کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ معطل ہونے والوں میں روہڑی سب ڈویژن کے ایس ڈی او آپریشن سجاد علی میمن اور سکھر ڈویژن کے اس وقت کے ایکسیئن (آپریشنز) معراج الدین شیخ شامل ہیں، جو آج کل ایکسیئن کنسٹرکشن ڈویژن سکھر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ان دونوں کو حاضری کے لیے سیپکو ہیڈ کوارٹرز رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ احکامات سی ای او سیپکو کی منظوری سے جاری ہوئے ہیں۔
مزیدپڑھیں:لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
احتساب کا یہ عمل صرف پیسکو اور سیپکو تک محدود نہیں رہے گا۔ دیگر تمام ڈسکوز بشمول لیسکو، گیپکو، فیسکو، آئیسکو، میپکو، ہیزیکو، ہیسکو، کیسکو اور ٹیسکو بھی سی سی ایم ایس پلس کے ڈیٹا کی روشنی میں اپنے خراب کارکردگی والے افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر رہی ہیں۔ ان تمام کمپنیوں میں مجموعی طور پر 100 سے زائد ایس ڈی اوز اور ایکسیئنز کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں جلد ہی شوکاز نوٹسز، معطلی اور غیر آپریشنل عہدوں پر تبادلے جیسی محکمانہ کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وفاقی وزیر نے تمام ڈسکوز کو مزید ہدایت کی کہ وہ سب ڈویژن اور ڈویژن کی سطح پر شکایات کے حل کی شرح پر نظر رکھنے کے لیے ہفتہ وار نگرانی کا ایک فعال نظام وضع کریں۔ جو افسران شکایات کے انتظام میں مسلسل ناکام ثابت ہوں گے، ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے جن میں معطلی، نان آپریشنل سیٹوں پر تبادلہ اور جبری ریٹائرمنٹ شامل ہیں۔ پاور ڈویژن نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ تمام ایس ڈی اوز اور ایکسیئنز کی کارکردگی کی رینکنگ ہر سہ ماہی کی بنیاد پر پبلک کی جائے گی تاکہ پاور سیکٹر میں شفافیت اور جوابدہی کے حکومتی عزم کو تقویت ملے۔
مزیدپڑھیں:سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
سردار اویس احمد خان لغاری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ حکومت پاکستان کے ہر بجلی صارف کو بروقت، قابل اعتماد اور باعزت خدمات کی فراہمی کے لیے پوری طرح کاربند ہے، جو کہ ان کا حق ہے۔ انہوں نے این بات پر زور دیا کہ فیلڈ افسران کی ناقص کارکردگی محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ پاکستان کے شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے، جسے حکومت کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مسلسل غفلت کے مرتکب افسران کو سخت تادیبی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا، بشمول معطلی، غیر حساس عہدوں پر منتقلی اور ضرورت پڑنے پر جبری ریٹائرمنٹ۔ پاور ڈویژن پاکستان کے بجلی کی تقسیم کے نظام کو ایک ایسے کارکردگی اور صارف دوست نظام میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے جہاں ہر شکایت کو ترجیح دی جائے اور صارف کے بروقت سروس کے حق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے۔
مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
حکومتِ پاکستان، پاور سیکٹر میں جاری ڈیجیٹلائزیشن اور گورننس اصلاحات کے ذریعے تمام ڈسکوز کی آپریشنل کارکردگی کی کڑی نگرانی کر رہی ہے۔ 118 کسٹمر کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم (CCMS) کی نئے سرے سے بحالی اور اسے مضبوط بنانے کے تحت اب صارفین کی شکایات کا ایک جامع ڈیجیٹل ڈیٹا بیس برقرار رکھا جا رہا ہے، جس سے شکایات کی نوعیت، ان کے حل کی مدت اور سروس کے معیار کی حقیقی وقت میں جانچ ممکن ہو گئی ہے۔
یہ نظام خرابیوں کی تفصیلات، ان کے حل کے دورانیے اور سب ڈویژن و ڈویژن کی سطح پر شکایات سے نمٹنے میں برتی جانے والی کسی بھی قسم کی کوتاہی کا تفصیلی ریکارڈ رکھتا ہے۔ اس اصلاحاتی اقدام نے فیلڈ فارمیشنز کی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے اور ڈسکوز میں تعینات افرادی قوت کی استعداد کار کو پرکھنے کی حکومتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔