‘اگر دنیا کشمیر معاملے پر بھی خاموش رہی تو کشمیر اگلا سیاسی دھماکا ہوسکتا ہے’
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کا 78واں سیاہ دن منایا جارہا ہے۔ اس موقع پر مشعال حسین ملک کا کہنا تھا کہ یہ وہ دن ہے جب بھارت نے کشمیریوں کی مرضی کے بغیر ٹینکوں کے ذریعے ریاست پر قبضہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق مشعال ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ کشمیر آج بھی دنیا کا سب سے زیادہ ملٹری قبضہ زدہ خطہ ہے جہاں 9 لاکھ بھارتی فوج تعینات ہیں۔ کشمیری ماؤں کے گھروں سے بیٹے چھینے گئے اور 78 برس بعد بھی آنچل آنسوؤں سے خالی نہیں۔
مشعال ملک کا کہنا تھا کہ اگر عالمی طاقتیں خاموش رہیں تو کشمیر دنیا کا اگلا سیاسی دھماکا بن سکتا ہے۔ بھارت کشمیر میں قیادت کو خاموشی سے ختم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ یہ اپیل نہیں، عالمی قوتوں کے لیے وارننگ ہے۔ کشمیر کو مزید نظرانداز نہ کیا جائے
انہوں نے مزید کہا کہ یاسین ملک امن کے سفیر ہیں، انہیں خاموش کرنا خطے کو دھماکہ خیز صورتحال کی طرف دھکیلنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔