کراچی:

ملیر راشدی گوٹھ میں ڈبل کیبن گاڑی پر سوار نشے میں دھت شخص نے موٹر سائیکل سواروں پر گاڑی چڑھادی۔

تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے راشدی گوٹھ میں نشے کی حالت میں گاڑی چلانے والے شخص عظمت شاہ نے تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے دو سے تین موٹرسائیکلوں اور ایک لوڈر رکشہ کو ہٹ کیا اور گاڑی فٹ پاتھ پر چڑھادی۔

 پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم عظمت علی شاہ کو ڈبل کیبن ریوو گاڑی سمیت گرفتار کرلیا، گرفتار ملزم کے قبضے سے 3 تین کین اسٹرونگ بیئر بھی برآمد کی گیا۔

 ملیرکینٹ پولیس کے مطابق واقعہ کے 2 مقدمات درج کرلیے گئے ہیں، ایک مقدمہ غفلت لاپرواہی سے ڈرائیونگ دوسرا شراب کے کین ملنے پر درج کیا گیا۔

ڈرائیور عظمت شاہ نشے میں دھت تھا جس کے پاس لائسنس بھی نہیں تھا۔ حادثے میں گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا جبکہ ڈرائیور بھی زخمی ہوا۔

شہریوں کی جانب سے ڈرائیور کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ گاڑی کی تلاشی لینے پرسیٹ کے نیچے سے تین بئیرکین ملے، ایک بیئر کا کین آدھا استعمال شدہ تھا۔

عوام کے تشدد کی وجہ سے ڈرائیور کے جسم پرمتعدد چوٹیں آئیں، ڈرائیور کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی