Jasarat News:
2026-07-24@01:23:33 GMT

یوم سیاہ کشمیر ہر سال

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

ستائیس اکتوبر کو اس عہد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ ہم کشمیری عوام کے جائز حق خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ یہ دن اس تاریخی سانحے کی یاد دلاتا ہے جب انیس سو سینتالیس میں بھارت نے اپنی فوجیں سرینگر میں اُتار کر جموں و کشمیر پر ناجائز قبضے کی بنیاد رکھی۔ یہ قبضہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ انسانی ضمیر کے بھی منافی تھا۔ کشمیر جسے قدرت نے جنت نظیر بنا کر زمین پر اُتارا، اس جنت کو ظلم و درندگی کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ لاکھوں کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا مگر غلامی کے طوق کو قبول نہیں کیا۔ ستائیس اکتوبر کو دنیا بھر میں کشمیری اور پاکستانی عوام سیاہ پرچم لہرا کر اس دن کو یوم احتجاج کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے کہ وہ اس دیرینہ مسئلے پر اپنی خاموشی توڑے اور انصاف کی حمایت میں آواز بلند کرے۔

 

کشمیر کا مسئلہ برصغیر کی تقسیم کے وقت اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر آیا اور اس کے حق میں قراردادیں منظور ہوئیں جن میں واضح طور پر کہا گیا کہ کشمیری عوام اپنی مرضی سے فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان یا بھارت میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ مگر افسوس کہ بھارت نے ان قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور طاقت کے زور پر وادی کو قید خانے میں بدل دیا۔ ہر گلی کوچے میں فوجی چوکیاں، ہر دروازے پر بندوق، ہر آنکھ میں خوف اور ہر دل میں امید کا دیا جلتا ہے کہ شاید ایک دن آزادی کی صبح طلوع ہو۔ بھارتی مظالم کی داستانیں وقت کے صفحات پر خون سے لکھی جا رہی ہیں۔ عصمت دری، جبری گمشدگیاں، اندھادھند فائرنگ، محاصرہ اور اظہار کی آزادی پر پابندیاں کشمیر کے روزمرہ کا المیہ بن چکے ہیں۔ دو ہزار انیس میں بھارتی حکومت نے آرٹیکل تین سو ستر منسوخ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی، جس کے بعد وادی میں ایک اور سیاہ دور کا آغاز ہوا۔ ہزاروں نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، میڈیا کی زبان پر تالے لگا دیے گئے۔ مگر آزادی کے متوالے کشمیری نہ جھکے نہ رکے۔ انہوں نے اپنے خون سے عزم و استقلال کی ایسی تاریخ لکھی جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

 

پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی ہے۔ ہر پاکستانی دل میں کشمیر کی دھڑکن سنتا ہے اور ہر پاکستانی زبان سے یہ صدا بلند ہوتی ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔ یہ نعرہ صرف ایک سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ ایمان کی علامت بن چکا ہے۔ یوم سیاہ کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ کشمیر کوئی علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق اور عالمی انصاف کا مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی اور عالمی طاقتوں پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کروائے۔ کشمیری عوام سات دہائیوں سے اپنے حق کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کے شہیدوں کے جنازے خاموش چیخ بن کر دنیا سے انصاف مانگتے ہیں۔ ان ماؤں کی سسکیاں جن کے بیٹے لاپتا ہیں، ان بہنوں کے آنسو جو اپنے بھائیوں کی لاشیں پہچاننے سے قاصر ہیں، ان بوڑھوں کی دعائیں جو ہر اذان کے ساتھ اللہ سے آزادی کی صبح مانگتے ہیں، یہ سب انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ ستائیس اکتوبر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ غلامی کے اندھیروں میں بھی امید کا چراغ بجھایا نہیں جا سکتا۔ یہ دن ہمیں اتحاد، یقین اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ کشمیر کے بچے آج بھی گولیوں کے سائے میں کھیلتے ہیں مگر ان کی آنکھوں میں آزادی کے خواب زندہ ہیں۔ یہ خواب کبھی نہیں مریں گے کیونکہ یہ خواب حق اور سچ پر مبنی ہیں۔ دنیا کی ہر طاقت ظلم سے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنی آزادی کے لیے اٹھ کھڑی ہوں تو کوئی طاقت انہیں غلام نہیں رکھ سکتی۔ کشمیر کی وادیوں میں بہنے والا ہر نالہ، ہر چشمہ، ہر درخت اور ہر پتھر گواہ ہے کہ یہاں کے لوگ آزادی کے لیے جی رہے ہیں اور آزادی کے لیے مر رہے ہیں۔

 

یوم سیاہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے ہر فورم پر انصاف کا مطالبہ جاری رکھیں۔ جب تک ظلم کی زنجیریں ٹوٹ نہیں جاتیں، جب تک کشمیر کے آسمان پر پاکستان کا پرچم نہیں لہراتا، جب تک مظلوم کی فریاد کو انصاف نہیں ملتا، تب تک یہ دن ہمیں پکار پکار کر یاد دلاتا رہے گا کہ ایک قوم اپنی آزادی کے لیے لڑ رہی ہے اور ہم اس کے ساتھ ہیں۔ کشمیر کی آزادی اب صرف وقت کی بات ہے کیونکہ حق کی شمع جب بھڑک اٹھتی ہے تو باطل کی تمام دیواریں راکھ ہو جاتی ہیں۔

 

جمیل احمد خان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا زادی کے لیے کشمیری عوام کشمیر کی

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف