Express News:
2026-07-24@06:44:24 GMT

ناقابل تسخیر تصورِ پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT

چیف آف آرمی اسٹاف اینڈ چیف آف ڈیفنس فورسرز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارت اور افغانستان کی طالبان رجیم کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے طالبان پر واضح کیا کہ ان کے پاس خوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کے انتخاب کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے، انھوں نے یہ بھی واضع کیا ہے کہ بھارت کسی خود فریبی یا گمان کا شکار نہ رہے، اگلی بار پاکستان کا جواب اس سے بھی برق رفتار اور شدید ہوگا، تمام یہ جان لیں پاکستان ناقابل تسخیر ہے، ملکی خود مختاری، علاقائی سالمیت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

پاکستان کے عسکری ڈھانچے میں ایک تاریخی اور ہمہ گیر تبدیلی کا جو عمل حالیہ دنوں میں سامنے آیا ہے، وہ نہ صرف قومی سلامتی کے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے بلکہ یہ ایک اہم اور دور رس اصلاح بھی ہے جس سے مستقبل میں ریاستی دفاع کا مجموعی نظام زیادہ مربوط، ُپختہ اور فیصلہ کن انداز میں کارفرما ہوسکے گا۔

جنرل ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ تقریب کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہایت دو ٹوک انداز میں داخلی و خارجی سلامتی کے حوالے سے جو پیغام دیا ہے، وہ بیک وقت ریاست کی عزم و استقامت کا اظہار بھی ہے اور خطے میں پایا جانے والا وہ ابہام بھی دورکرتا ہے جو اکثر اوقات پاکستان کی سیاسی و دفاعی پالیسیوں کے بارے میں مصنوعی طور پر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

 فیلڈ مارشل نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے جو صاف گوئی اختیار کی، وہ سفارتی تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک واضح، سنجیدہ اور مدلل انتباہ ہے۔ بھارت کی جانب سے برسوں سے جاری پراکسی سرگرمیوں، سرحدی اشتعال انگیزیوں اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کے بے نتیجہ حربوں نے خطے کو مستقل کشیدگی کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے سپہ سالار کا یہ کہنا کہ بھارت کسی خود فریبی یا گمان میں نہ رہے اور اگر اس نے دوبارہ مہم جوئی کی کوشش کی تو پاکستان کا جواب اس سے بھی زیادہ برق رفتار اور مؤثر ہوگا، ایک حقیقت پسندانہ اور ضروری اعلان تھا۔

امن کی خواہش کا اظہارکمزوری نہیں اور طاقت کا استعمال جارحیت نہیں بلکہ ریاستی دفاع کا بنیادی حق ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت کا یہ دوٹوک موقف بھارت سمیت دنیا کو یہ باورکرانے کے لیے کافی ہے کہ پاکستانی قوم اور اس کی مسلح افواج ملکی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان نہ تو جنگ کا خواہش مند ہے اور نہ ہی کسی بیرونی مہم جوئی کا محرک، البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ تاریخ کا ہر باب اس گواہی پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ پاکستانی قوم نے اپنے وطن کے دفاع کے لیے ہمیشہ یکجا ہوکر ناقابل تسخیر قوت ثابت کی ہے۔اسی طرح افغانستان میں موجود طالبان انتظامیہ کو جو واضح پیغام دیا گیا، وہ بھی علاقائی سیکیورٹی کی ضروریات اور زمینی حقائق کی روشنی میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان نے بارہا واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس کی جنگ نہ تو کسی مخصوص گروہ کے خلاف ہے اور نہ ہی اسے کسی دوسرے ملک کی داخلی سیاست میں مداخلت کا شوق ہے، لیکن جب سرحد پار سے منظم دہشت گردانہ حملے ہوں، پاکستان دشمن گروہوں کو پناہ گاہیں فراہم کی جائیں اور خوارج جیسی تنظیمیں افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کریں، تو پھر خاموشی نہ تو ممکن ہوتی ہے اور نہ ہی مناسب۔ فیلڈ مارشل نے یہ کہہ کر حقیقت کو اس کے اصل تناظر میں پیش کیا کہ طالبان کے پاس دو ہی راستے ہیں یا وہ خوارج کا ساتھ چھوڑ کر علاقائی امن اور ہمسائیگی کے تقاضوں کا احترام کریں یا پھر ایسے عناصر کے ساتھ کھڑے رہیں جنھوں نے مسلم ممالک کی جڑیں کھوکھلی کرنے اور خطے میں بدامنی پھیلانے کو اپنا ایجنڈا بنایا ہوا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس توقع کا اظہارکیا ہے کہ افغان قیادت خطے کی اجتماعی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے گروہوں سے لاتعلقی اختیار کرے گی، جو امن کے دشمن اور ریاستوں کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔

 بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی سیکیورٹی ماحول نے جدید جنگی حکمتِ عملی کو ملٹی ڈومین آپریشنز کے تصور سے جوڑ دیا ہے، جہاں بری، بحری اور فضائی افواج محض اپنی اپنی سطح پر نہیں بلکہ ایک ہم آہنگ، مربوط اور مشترکہ آپریشنل فریم ورک میں کام کرتی ہیں۔ ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کا قیام اسی اہم تناظر میں کیا گیا ہے۔ دنیا کی جدید افواج پہلے ہی اس ماڈل کی طرف گامزن ہیں، جہاں ادارہ جاتی ہم آہنگی کو طاقت کا بنیادی محرک سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان نے بھی اس جدید ماڈل کو اپناتے ہوئے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ دفاعی امور میں جدیدیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے تقاضوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔

فیلڈ مارشل کا یہ کہنا نہایت اہم تھا کہ نئی تنظیم کے باوجود تینوں افواج اپنی اندرونی خود مختاری اور تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھیں گی۔ اس کا مقصد واضح ہے کہ ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز ایک بالائی مربوط پلیٹ فارم فراہم کرے گا، مگر یہ کسی بھی افواج کے اندرونی نظام میں دخل اندازی نہیں کرے گا۔ یوں ایک طرف مشترکہ کمانڈ کا مؤثر نظام قائم ہوگا، جب کہ دوسری طرف ہر سروس اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور مخصوص آپریشنل ذمے داریوں کے تحت اپنی شناخت اور فعالیت برقرار رکھے گی۔

یہ ماڈل اس لیے بھی ناگزیر تھا کہ نئی نسل کی جنگیں محض روایتی جنگی محاذوں تک محدود نہیں رہ گئیں۔ سائبر حملے، ہائبرڈ وار، معاشی دباؤ، معلوماتی محاذ آرائی اور پراکسی جنگ جیسے نئے خطرات اب عسکری حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہیں۔ ایسے حالات میںمربوط، جامع اور ہم آہنگ حکمتِ عملی ہی دفاعی کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج نے اندرونی محاذ پر بھی گہرے چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف دو دہائیوں پر محیط جنگ، بے شمار قربانیاں، لاکھوں شہریوں اور ہزاروں جوانوں کی لازوال جدوجہد اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان نے دنیا میں سب سے طویل اور مشکل ترین دہشت گردی کے چیلنج کا مقابلہ اپنے وسائل، اپنے عزم اور اپنے خون سے کیا۔ فیلڈ مارشل نے درست کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے، مگر یہ امن کمزوری یا پسپائی سے نہیں بلکہ طاقت، قربانی اور ثابت قدمی سے حاصل کیا گیا ہے۔

اب بھی اگر دہشت گرد عناصر دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کریں یا بیرونی طاقتیں انھیں سہارا دینے لگیں، تو پاکستان ایسی کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔یہ لمحہ بھی قومی تاریخ میں اہمیت رکھتا ہے کہ ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کے قیام کے موقع پر تینوں مسلح افواج نے جس اتحاد، نظم اور پیشہ ورانہ عزم کا اظہارکیا، وہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ پاکستان کی دفاعی سوچ میں نہ صرف تسلسل ہے بلکہ مستقبل کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک متحرک اور جدید نقطہ نظر بھی شامل کیا جارہا ہے۔ دنیا میں وہی ممالک محفوظ رہتے ہیں جو اپنی اندرونی صف بندی مضبوط رکھتے ہیں اور اپنی حدود کی حفاظت کے لیے واضح حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔

اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی معاشرتی اور سیاسی استحکام کا دار و مدار بھی اس بات پر ہے کہ ریاست کے ادارے ہم آہنگی، نظم اور یکسوئی کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں۔ قوم اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ دفاعی محاذ پر مضبوطی، داخلی استحکام سے براہ راست جڑی ہوتی ہے۔ مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریوں میں ہمیشہ سیاست سے بالاتر رہ کر ملک کی سلامتی اور تحفظ کو اولیت دی ہے اور آج بھی ملک کے دفاع کا مرکزی ستون وہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی سیاسی قیادت، سماجی اداروں اور معاشی ڈھانچے کو بھی اپنے اپنے دائرے میں ذمے داری نبھانا ہوگی، تاکہ پاکستان ایک ہمہ جہت مضبوط ریاست کے طور پر ابھر سکے۔

ریاستی سلامتی کے اس وسیع اور پیچیدہ منظرنامے میں پاکستان کی عسکری قیادت کے مضبوط موقف نے اس امرکو یقینی بنایا ہے کہ کوئی بھی قوت پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو چیلنج کرنے کی غلطی نہ کرے۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ضرور ہے، مگر یہ امن دباؤ، خوف یا مصلحت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصول، انصاف اور خود اعتمادی کی بنیاد پر قائم ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تقریر اسی پالیسی کا ایک واضح اور غیر مبہم اظہار تھی۔پاکستان کے دفاعی ارتقا کا یہ نیا مرحلہ جہاں ایک جانب ہمارے ادارہ جاتی استحکام کو مضبوط کرتا ہے، وہیں مستقبل کی دفاعی حکمتِ عملی کو بھی ایک نئے راستے پر ڈال رہا ہے۔ یہ راستہ یکجہتی، جدیدیت، پیشہ ورانہ تربیت، داخلی ہم آہنگی اور خطے میں ذمے دارانہ کردار کا راستہ ہے۔ اسی راستے پر چل کر پاکستان نہ صرف اپنی سرحدوں کا دفاع مضبوط کرے گا بلکہ دنیا میں ایک امن پسند، باوقار اور ذمے دار ریاست کے طور پر اپنی شناخت مزید مستحکم کرے گا۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ پاکستان کو موجودہ دور میں جتنے پیچیدہ، متنوع اور کثیر جہتی خطرات کا سامنا ہے، شاید ہی کبھی پہلے رہا ہو۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستانی قوم نے ہمیشہ اپنے چیلنجز کو مواقع میں بدل کر دکھایا ہے۔ یہی جذبہ، یہی عزم اور یہی وحدت پاکستان کو ناقابل تسخیر بناتی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ بیانات اسی ناقابل تسخیر تصورِ پاکستان کی توثیق کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہے کہ پاکستان ڈیفنس فورسز پیشہ ورانہ پاکستان کے پاکستان کی خود مختاری مسلح افواج پاکستان نے نہیں بلکہ کے خلاف چیف ا ف کیا ہے کرے گا ہے اور کے لیے

پڑھیں:

’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان

پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی سے متعلق ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ معروف گلوکار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے عیسیٰ خیل میں اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے اور وہ آخرت کی تیاری کو زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے حال ہی میں صحافی ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی، موسیقی اور ذاتی خیالات پر کھل کر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے۔ میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، مکمل بن چکی ہے۔ اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا ورنہ بعد میں خود ہی دیکھ لیں گے۔ ہمارا اپنا خاندانی قبرستان بھی ہے، جہاں میں نے اپنے لیے ایک قبر مخصوص کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ چند جگہیں اور بھی ہیں جن میں سے ایک کے بارے میں میں نے مذاق میں کہا تھا کہ وہ میری اہلیہ کے لیے ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ مذاق کر رہا ہوں حقیقت میں صرف اپنی قبر محفوظ کروائی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔

گلوکار نے قبر کے بارے میں بتایا کہ یہ خیال اس وقت آیا جب میں نے ایک فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروائی۔ پھر سوچا کہ میرے لیے بھی ایک جگہ ہونی چاہیے۔ میں اپنے کئی قریبی دوستوں، عزیزوں، خاندان کے افراد اور اپنی والدہ کو کھو چکا ہوں، اسی لیے موت کا خیال ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے۔ میری صرف یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے پُرسکون موت عطا فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں: عطااللہ عیسیٰ خیلوی کس کے لکھے گانے گا کر مشہور ہوئے؟

عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔ ایک صارف نے لکھا قبر پہلے سے بنوانا درست نہیں البتہ کفن کی تیاری کی جا سکتی ہے۔

ایک اور نے تبصرہ کیا صرف قبر تیار کر لینا کافی نہیں، اصل تیاری آخرت کی ہونی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ان کا ایمان مضبوط ہے، ہم تو قبر کا ذکر کرنے سے بھی گھبراتے ہیں جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا قبر بنانے کے بجائے اگر اولڈ ایج ہوم بنا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عطااللہ عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی قبر قبر گلوکار ویڈیو وائرل

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ