15 لاکھ 14 ہزار 384 افغان شہری وطن واپس جا چکے
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-01-8
اسلام آباد ( آن لائن) پاک فوج اور حکومتِ پاکستان کے شفاف اور منظم نظام کے تحت افغان مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کا عمل باعزت، محفوظ اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے مطابق جاری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 15 لاکھ 14 ہزار 384 افغان شہری وطن واپس جا چکے ہیں، جب کہ روزانہ تین سے چار ہزار مہاجرین کی واپسی عمل میں لائی جا رہی ہے۔پاک افغان سرحد چمن سے افغان مہاجرین کی واپسی کو منظم، باوقار اور قانونی طریقہ کار کے ساتھ یقینی بنایا جا رہا ہے۔ دستاویزات کی تصدیق کے لیے ایک شفاف نظام قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر شخص کی جانچ پڑتال کے بعد ہی سرحد عبور کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف سی بلوچستان (نارتھ) اور سول انتظامیہ کی جانب سے چمن بارڈر پر مہاجرین کے لیے رہائش، کھانے اور بنیادی سہولتوں کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے تاکہ انخلاء کا عمل باوقار انداز میں مکمل ہو۔پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران لاکھوں افغان بھائیوں کو پناہ، روزگار اور تحفظ فراہم کیا، جو دنیا میں انسانی ہمدردی کی ایک نمایاں مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔حکام کے مطابق اب پاکستان میں بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے داخلہ ممکن نہیں ہوگا، جب کہ صرف تجارتی یا دورہ جاتی ویزا رکھنے والے افغان شہریوں کو آمد کی اجازت دی جائے گی۔ترجمان کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی، قانون کی پاسداری، اور پاک افغان تعلقات میں باہمی احترام کی مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔