جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کے 78سال: پاکستان سمیت دنیا بھر میںیوم سیاہ منایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-01-21
مظفرآباد/ اسلام آباد (صباح نیوز /آن لائن /مانیٹرنگ ڈیسک) 27 اکتوبر 1947ء ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر پر بھارت کے غیرقانونی قبضے کو 78 برس بیت گئے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم سیاہ اس تجدید عہد کے ساتھ منایا گیا کہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے سے آزادی تک تحریک آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی ۔27 اکتوبر 1947ء ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن تھا جب بھارت نے جبری طور پر کشمیر کے ایک بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا، بھارت کے اس جابرانہ اقدام کے خلاف کشمیری آج بھی اپنی آزادی کے لیے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں، بھارت نے گزشتہ34 برس کے دوران 1 لاکھ کے قریب کشمیری بے دردی سے شہید کیے ہیں۔ہر سال دنیا بھر میں کشمیری 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اس سال بھی پوری دنیا میں کشمیری عوام نے احتجاج، ریلیوں اور سیمینارز کا انعقاد کیے ‘ بھارتی قبضے اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔ علاوہ ازیں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے زیرِاہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔ اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر یومِ سیاہ کے موقع پر بھارتی مظالم کے خلاف احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت وفاقی وزیر برائے امور کشمیر انجینئر امیر مقام، سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کی ۔ وزارتِ امورِ کشمیر کے زیرِ اہتمام، وزارتِ خارجہ اور وزارتِ اطلاعات کے اشتراک سے احتجاجی ریلی دفترِ خارجہ سے ڈی چوک تک نکالی گئی ۔ ریلی میں جموں و کشمیر لبریشن سیل، حریت رہنمائوں اور سرکاری افسران کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مختلف سیاسی و سماجی رہنما ئوں نے ریلی میں اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس میں اسکول و کالجز کے بچے اور بچیاں بھی شریک ہوئے ‘ شرکا پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے کشمیری عوام کے حق میں نعرے لگائے‘ کشمیری شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ۔ ریلی کا مقصد کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کا اظہار ہے۔ شرکا کا کہنا ہے کہ یومِ سیاہ کا مقصد بھارتی قبضے کے خلاف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں پر جواب دہ ٹھہرائیں، بھارتی مظالم کو فوراً بند کرانے کے لیے اقدامات کریں اور اس دیرینہ تنازع کے پرامن حل کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ اور پُرامن حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق نہیں نکالا جاتا۔ یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہر سال 27 اکتوبر کو کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن یاد دلاتا ہے‘ آج سے 78 سال قبل اسی دن بھارت کی قابض فوجیں سری نگر میں اتری تھیں اور اس پر قبضہ کرلیا گیا تھا، یہ انسانی تاریخ کا ایک المناک باب ہے جو آج بھی جاری ہے، اُس منحوس دن کے بعد سے بھارت مسلسل کشمیری عوام کو ان کے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سے محروم رکھے ہوئے ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے امور کشمیر گلگت بلتستان امیر مقام دفتر خارجہ تا ڈی چوک یوم سیاہ کشمیر کے حوالے سے یکجہتی واک کی قیادت کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کشمیری عوام اسلام ا باد تاریخ کا یوم سیاہ کشمیر کے پر بھارت کے خلاف
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔