حیدرآباد ،جی سی یونیورسٹی میں یوم سیاہ کشمیر منایاگیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) جی سی یونیورسٹی حیدرآباد میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یومِ سیاہ کشمیر ساتھ منایا گیا۔یہ تقریب ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر عبدالرزاق لاڑک کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر امجد علی آرائیں نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”27 اکتوبر ایک غم اور درد کا دن ہے۔ ہم ہر حال میں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان عالمی سیاسی و جیو اسٹریٹجک منظرنامے میں ایک اہم کردار رکھتا ہے، اور یہ وقت ہے کہ ہم کشمیر کے لیے بھرپور انداز میں آواز بلند کریں۔”انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارت کی جارحانہ پالیسیوں کا مؤثر جواب دیا ہے، ”ہم نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے، یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان انصاف اور امن کے لیے پرعزم ہے۔ آج بھارت اپنی ظالمانہ کارروائیوں کے باعث دنیا میں تنہائی کا شکار ہے۔”اس موقع پر ڈینز پروفیسر ڈاکٹر عبدالمنان شیخ اور پروفیسر ڈاکٹر مخدوم محمد روشن صدیقی نے بھی شرکت کی۔پروفیسر ڈاکٹر شاہنواز منگی نے کشمیر کے مسئلے کے تاریخی اور سیاسی پہلوؤں پر لیکچر دیا اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل پر زور دیا۔تقریب میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان بشمول پروفیسر ڈاکٹر آغا عماد نبی، ڈاکٹر نیاز سومرو، ڈاکٹر شیبا ساجد، فیکلٹی اراکین اور بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔طلبہ نے سندھی، اردو اور انگریزی میں پرجوش تقاریر پیش کیں جن میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔تقریب کا اختتام یونیورسٹی احاطے میں یکجہتی ریلی سے ہوا، جس میں شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ریلی کے شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں اُن کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پروفیسر ڈاکٹر
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :