مائیکروسافٹ ٹیمز میں حاضری کا نیا فیچر، پاکستان میں ہائبرڈ ورک کلچر کے لیے گیم چینجر یا پرائیویسی چیلنج؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
مائیکروسافٹ ٹیمز نے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاری کرلی ہے جو ملازمین کا کام کی جگہ کا اسٹیٹس خودکار طور پر اپ ڈیٹ کرے گا مثلاً جب کسی ملازم کا آلہ کمپنی کے مخصوص وائی فائی نیٹ ورک سے جڑ جائے تو اس کا اسٹیٹس ’in the office‘ میں تبدیل ہو جائے گا۔
یہ فیچر اداروں کو ہائبرڈ ورک ماڈلز میں سہولت فراہم کرے گا، تاکہ دفتر یا ریموٹ ورکنگ کی نگرانی زیادہ منظم ہو سکے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ نیا نظام ملازمین کی پرائیویسی سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ’اسکائپ‘ 22 سال بعد بند، ایک عہد کا اختتام
مائیکروسافٹ کے مطابق یہ فیچر فی الحال پری ویو مرحلے میں ہے اور اسے فعال کرنے کے لیے صارف کی رضامندی لازمی ہوگی۔ کمپنیوں کو اپنے “Places Directory” میں عمارتوں اور وائی فائی نیٹ ورکس کی تفصیلات پہلے سے رجسٹر کرنی ہوں گی۔
پاکستان میں، جہاں ہائبرڈ ورک کلچر تیزی سے فروغ پا رہا ہے، یہ فیچر حاضری کے نظم و ضبط، ڈیسک بُکنگ اور آفس مینجمنٹ کو آسان بنا سکتا ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ڈیٹا تحفظ اور ملازم کی نجی زندگی کے احترام کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: اسکائپ کی بندش کے امکانات: کون سی ایپس متبادل ہوسکتی ہیں؟
قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ابھی تک مکمل ڈیٹا پروٹیکشن قانون نافذ نہیں ہوا، جبکہ موجودہ ضوابط میں ملازمین کی لوکیشن مانیٹرنگ کے حوالے سے واضح رہنمائی نہیں ہے۔
فیچر کے مؤثر استعمال کے لیے ماہرین نے تجویز دی ہے کہ ادارے تمام متعلقہ ملازمین سے رضامندی حاصل کریں، واضح طور پر بتائیں کہ لوکیشن ڈیٹا کس مقصد کے لیے استعمال ہوگا اور یہ سہولت تعاون کے لیے ہو، نگرانی کے لیے نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان پرائیویسی چیلنج؟ گیم چینجر مائیکروسافٹ ٹیمز ہائبرڈ ورک کلچر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان گیم چینجر مائیکروسافٹ ٹیمز ہائبرڈ ورک کلچر ہائبرڈ ورک کے لیے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔