Daily Mumtaz:
2026-06-03@05:36:12 GMT

سندھی کلچر ڈے، ریاست کے اندر ریاست قائم کی گئی، فاروق ستار

اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT

سندھی کلچر ڈے، ریاست کے اندر ریاست قائم کی گئی، فاروق ستار

 

 

کراچی (نیوزڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھی کلچر ڈے کے نام پر کراچی کی شاہراہوں اور مختلف مقامات پر ریاست کے اندر ایک ریاست قائم کی گئی۔

کراچی میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، ملک دشمنی کا اظہار کیا گیا، اسلحہ لہرا لہرا کر دکھایا گیا۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 7 دسمبر کو کلچر ڈے کے نام پر ریاستی قانون کو پامال کیا گیا، ثابت کیا گیا کہ 7 دسمبر کو سندھو دیش قائم کیا گیا، کئی لوگوں کو زخمی کیا گیا، وہاں پولیس مقابلہ ہوا، یہ خوفناک اور خطرناک عمل تھا۔

فاروق ستار نے کہا کہ مین اسٹریم میڈیا پر سب کچھ ریکارڈ ہے، جو مقدمہ بنایا گیا اس میں دہشت گردی، اقدام قتل اور دیگر دفعات شامل ہیں، اس وقت کوئی وہاں سے گزر نہیں سکتا تھا، کوئی بڑا جانی نقصان ہونے کے بعد کیا اسے دہشت گردی کہیں گے، جس طرح نقصان پہنچایا گیا کیا یہ دہشت گردی نہیں تھی؟

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے جب روکنے کی کوشش کی تو پولیس پر بھی حملہ کیا گیا، گرفتار اکثریت کو چھوڑ دیا گیا، جب گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالت نے خود ان کا مقدمہ لڑا، انہیں وکیل کی ضرورت ہی نہیں رہی، جو پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی، عوام کو زدوکوب کیا گیا، میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد واقعے کو دہشت گردی قرار دیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ریلی میں شریک پُرامن سندھی بھائی، بیٹے، بیٹیوں سے کوئی پرخاش نہیں، کراچی کے امن کو تباہ کر کے فساد کی سازش کی گئی، ایک بار پھر بھائی سے بھائی کو لڑانے کی سازش ہو رہی ہے، ہم انتظار کر رہے تھے حکومت سندھ کا اس پر کیا رد عمل آتا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ شہر میں مخصوص زبان بولنے والے وکلا کا ٹولہ زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ذیلی عدالت کے رویے پر اعلیٰ عدالت کو نوٹس لینا چاہیے۔

فاروق ستار نے کہا کہ بلاول بھٹو اور صدر آصف زرداری کو بھی کہنا چاہیے، جو گورنر کے خلاف ہوا، کل وزیراعلیٰ کے لیے بھی ہو سکتا ہے، یہ کوئی 200 اقساط والا ڈراما نہیں ہے، اگر حکومت کھل کر نوٹس نہیں لیتی اور گورنر کے ساتھ نہ کھڑی ہوئی، تو سمجھ جانا کہ 17 سال پہلے جو بیج بویا گیا وہ تناور درخت بن چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی  کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔ 

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم  دیدیا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی  کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔ 

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے  5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد