پاکستان ڈویلپمنٹ اپڈیٹ میں ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ 2000ء سے برآمدات جی ڈی پی کے تناسب سے مسلسل کم ہوتی جارہی ہیں جو کہ 1990ء کی دہائی میں اوسطاً 16 فیصد سے گر کر 2024ء میں صرف تقریباً 10.4 فیصد رہ گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملک کی معاشی نمو قرض اور ترسیلاتِ زر پر منحصر ہو گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ورلڈ بنک نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی برآمدات جی ڈی پی کے تناسب سے کم ہو رہی ہیں اور یہ اپنی ممکنہ حد سے کافی نیچے ہیں، جس سے تقریباً 60 ارب امریکی ڈالر کی غیر استعمال شدہ برآمدی صلاحیت ظاہر ہوتی ہے۔ بینک نے برآمدات کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر بلند محصولات، پیچیدہ ضوابط، مہنگی توانائی اور لاجسٹکس کو اہم عوامل قرار دیا ہے۔ پاکستان ڈویلپمنٹ اپڈیٹ میں ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ 2000ء سے برآمدات جی ڈی پی کے تناسب سے مسلسل کم ہوتی جارہی ہیں جو کہ 1990ء کی دہائی میں اوسطاً 16 فیصد سے گر کر 2024ء میں صرف تقریباً 10.

4 فیصد رہ گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملک کی معاشی نمو قرض اور ترسیلاتِ زر پر منحصر ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی برآمدات کی کارکردگی کبھی بنگلہ دیش اور بھارت سے آگے تھی، لیکن آج یہ دونوں ممالک سے پیچھے ہے اور کم اور درمیانے آمدنی والے ممالک (ایل ایم آئی سی) اور بڑے درمیانی آمدنی والے ممالک (یو ایم آئی سی) کے اوسط سے بھی نیچے ہے۔ یہ کمی اس وقت ہوئی جب برآمدات کا فرق، یعنی پاکستان کی اصل برآمدات اور برآمدی صلاحیت کے درمیان فرق وسیع ہو گیا۔

ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ آبادی، ترقی کی سطح اور بڑی مارکیٹس سے قربت جیسے بنیادی اقتصادی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ تخمینوں کے مطابق پاکستان کی غیر استعمال شدہ برآمدی صلاحیت تقریباً 60 ارب امریکی ڈالر ہے۔ اس فرق کو ختم کرنے سے پاکستان یو ایم آئی سیز کے اوسط کے برابر آ جائے گا تاہم اس کے لیے جی ڈی پی میں موجودہ برآمدات کا تناسب دوگنا ہونا ضروری ہے۔ بینک نے برآمدات کی قیادت میں نمو کے لیے وسیع اقدامات کا مطالبہ کیا ہے جن میں مارکیٹ کے مطابق ایکسچینج ریٹ، مضبوط تجارتی مالی معاونت، بہتر لاجسٹکس اور تعمیل، گہرے تجارتی معاہدے اور ڈیجیٹل و توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع شامل ہیں تاکہ ابھرتی ہوئی آئی ٹی سروسز کی برآمدات سمیت برآمدی ترقی کو فروغ دیا جاسکے۔ بینک نے تجویز دی ہے کہ اسٹیٹ بینک کی ثالثی کے بغیر ایک ڈیپ اینڈ لیکوئیڈ انٹربینک مارکیٹ قائم کی جائے اور برآمد کنندگان، درآمد کنندگان اور غیر ملکی سرمایہ کاروں سمیت مختلف مارکیٹ پلیئرز کی زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس کے ساتھ بینک نے انٹربینک مارکیٹ کے لین دین کا تفصیلی ڈیٹا شائع کرنے، جس میں حجم اور شرکاء شامل ہوں اور عبوری مداخلتوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کی بھی سفارش کی، تاکہ کرنسی کا ریٹ حقیقی سپلائی اور ڈیمانڈ کی عکاسی کرے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: برآمدات جی ڈی پی کے تناسب سے پاکستان کی کی برآمدات ورلڈ بینک

پڑھیں:

عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی

لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔

ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف