Al Qamar Online:
2026-06-03@01:22:36 GMT

ستائیسو یں آئینی ترمیم … جمہوریت مستحکم ہوگی ؟؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

ملک میں اس وقت سب کی نظریں 27 ویں آئینی ترمیم پر لگی ہیں۔ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد یہ ترمیم سینیٹ میں پیش کی گئی اور اس کا مسودہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ اس مسودے پر مکمل مشاورت کے بعد اسے حتمی منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

27ویں ترمیم کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف ماہرین کو مدعو کیا گیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

ڈاکٹر اعجازبٹ

(سینئر تجزیہ کار)

آئینی ترمیم کیلئے آئین میں دیا گیا طریقہ کار اپنانا انتہائی اہم ہے۔ ضروری ہے کہ ترمیم پر سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں میں طویل بحث ہو اورہر رکن اس پر اظہار کرنے دیا جائے ۔ ان اجلاسوں کو براہ راست نشر کیا جائے تاکہ عوام اور ووٹرز کو بھی معلوم ہوسکے کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بناء پر آئینی ترمیم ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔ 1973ء کا آئین تمام سیاسی جماعتوں کا متفقہ آئین ہے جس کی اصل شکل کو ہم بار بار تبدیل کرتے رہے ہیں اور بعض ایسی ترامیم بھی لائی گئیں جن سے اس کی اصل روح متاثر ہوئی۔

26 ویں ترمیم پر اسمبلی میں نہ بحث ہوئی اور نہ ہی اراکین اسمبلی سے کوئی رائے لی گئی۔ جس طرح اس ترمیم کو منظور کیا گیا اس میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ اگر 27 ویں ترمیم، 26 ویں ترمیم کے تسلسل میں ضروری ہے اور اسے بغیر بحث کے منظور کرایا جاتا ہے، اس کا شق وار جائزہ نہیں لیا جاتا، اسے پارلیمنٹ کی کارروائی کا حصہ نہیں بنایا جاتا اور میڈیا کے ذریعے عوام تک نہیں پہنچایا جاتا تو اس پر بھی شکوک و شبہات ہوں گے اورنتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔ 27 ویں ترمیم میں بعض چیزیں مثبت ہیں۔

آرٹیکل 160 کے تحت این ایف سی ایوارڈ کا آغاز کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ہر پانچ سال بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا۔زیادہ تر ٹیکس کیونکہ وفاقی حکومت اکٹھا کرتی ہے لہٰذا اس میں صوبوں کے حصے کے حوالے سے مختلف فارمولے اپنائے گئے ۔ 2009ء میں ایک فارمولا بنا جس میںآبادی کے ساتھ ساتھ غربت کی شرح ، پسماندگی اور محاصل میں حصے کے حساب سے صوبوں کو ان کا حصہ ملے گا جو وفاق انہیں ادا کرے گا۔ اس وقت سے لے کر آج تک وہی ایوارڈ چل رہا ہے ۔

اب وفاقی سطح پر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ وفاق کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوچکی ہیں، ڈیفنس اور سکیورٹی کی بہت بھاری ذمہ داری وفاق پر ہے لہٰذا این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ان کا شیئر دینے کے بعد وفاق کے پاس بہت کم پیسہ بچتا ہے۔ قرض بھی وفاقی حکومت لیتی ہے، اس میں سے صوبوں کو تو ان کا حصہ مل جاتا ہے لیکن قرض وفاق نے ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے وفاق کا حصہ کم رہ جاتا ہے اور وہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پاتا۔ اب اس میں تبدیلی کی باتیں و رہی ہیں تاکہ وفاق کا حصہ بڑھایا جاسکے۔ 18 ویں ترمیم میں بہت سے محکمے صوبوں کو منتقل ہوگئے اور انہیں ان کا حصہ بھی زیادہ مل گیا لیکن وفاق کا شیئر کم ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم اور بہبود آبادی کے شعبے وفاق واپس لینا چاہتا ہے، یہ مثبت ہے۔ ا س کی وجہ یہ ہے کہ آبادی کی شرح جس تیزی سے بڑھی ہے ا س کی روک تھام میں صوبوں نے اپنا کردار نہیں کیا۔ اب آبادی ہمارے لیے بڑا مسئلہ بن گیا ہے، اس پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے اور بوجھ وفاق کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

عالمی سطح پر نظام تعلیم میں بڑی تبدیلیاں آرہی ہیں۔ صوبوں کو تعلیم کے حوالے سے اختیارات دینے سے دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنا اور نظام تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ صوبے عالمی معیار کے مطابق شعبہ تعلیم کو اپ گریڈ نہیں کرسکے۔ تعلیم اور بہبود آبادی کے حوالے سے ترامیم مثبت ہیں، یہ کام وفاق کے ذمے ہو تو بہتری لائی جاسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی 18 ویں ترمیم کا کریڈٹ لیتی ہے اور فخر سے کہتی ہے کہ ہم نے محکمے اور اختیارات صوبوں کو دیے ۔ اب اگر یہ شعبے مرکز کے پاس چلے جاتے ہیں تو پیپلز پارٹی پر بھی سوال اٹھے گا۔آئینی عدالتوں اور مجسٹریسی کا نظام قائم کرنے کی بات بھی ہو رہی ہے۔

عدلیہ پہلے ہی کمزور ہوچکی ہے، اس پر انتظامیہ کا کنٹرو ل ہے۔ 26ویں ترمیم میں سپریم کورٹ کے اختیارات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، اب نچلی سطح پر مجسٹریسی نظام کی بات ہو رہی ہے۔ یہ انگریز کا نظام تھا جسے ہم آزما چکے ہیں۔ ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنرز کے پاس انتظامی اختیارات ہیں، اب انہیں جوڈیشل پاورز بھی دی جا رہی ہے،یہ اختیارات کی تقسیم کے بنیادی اصول کے خلاف ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ہم نے دیکھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی اور مسائل پیدا ہوئے۔

بجائے اس کے ضلعی سطح پر عدلیہ کو مضبوط اور موثر بنایا جاتا، ہم نے دوبارہ انگریز دور کے پرانے ایگزیکٹیو مجسٹریسی کے نظام کو اپنانے کافیصلہ کیا ہے۔ اس سے کیا نتیجہ نکلے گا یہ عملدرآمد کے بعد ہی پتا چلے گا۔ ہائی کورٹ کے ججوں کو ان کی مرضی کے خلاف کسی بھی دوسرے ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کرنے کی جو شق شامل ہوگی یہ بھی عدلیہ کی آزادی پر بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔ انتظامیہ بہت حد تک جوڈیشل کمیشن جہاں ججوں کی تقرری ہوتی ہے، کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کر رہی ہے۔ حکومت کی نمائندگی زیادہ ہے لہٰذا وہ اپنی مرضی کے جج لاسکتی ہے۔

اگر یہ ترمیم ہوجاتی ہے تو میرے نزدیک یہ اعلیٰ عدلیہ کو انتظامیہ کے مزید زیر اثر لانے کی کوشش ہوگی جس سے بنیادی جمہوری نظام میں اختیارات کی تقسیم کی نفی ہوگی، لوگوں کی آزادی اور ملک میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ میں نہ صرف عدلیہ کا کردار کمزور ہوگا بلکہ خود عدلیہ بھی کمزور ہوگی لہٰذا 27 ویں ترمیم میں بعض معاملات پر تو مثبت بات ہوسکتی ہے لیکن عدلیہ اور ایگزیکٹو مجسٹریسی کا معاملہ ٹھیک نہیں، یہ جمہوریت کیلئے نیک شگن نہیں ہے۔ جمہوریت میں عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ، تینوں کا آزادانہ کام کرنا بنیادی انسانی حقوق کا ضامن ہے۔

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

(سیاسی تجزیہ کار)

جدید ریاست میں دستور اور آئین کی حیثیت ملک کے نظام کی ترتیب اور اسے فعال بنانے کیلئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ عوام کے جذبات اور امنگوں کی ترجمانی اورریاست کی سمت کا تعین بھی اسی سے ہوتا ہے۔ ریاست میں کام کرنے والے مختلف اداروں، مناصب اور عہدوں کے دائرہ کار اور ذمہ داریوں کا تعین بھی دستور کرتا ہے۔ یہ جامد نہیں ہوتا، وقت کے ساتھ نئے تقاضوں کے حساب سے اس میں تبدیلی اور ترمیم کی گنجائش ہوتی ہیم لہٰذادستور میں تبدیلی کوئی نئی بات نہیں ہے تاہم یہ معاملہ تب منفی رخ اختیار کرتا ہے جب عوام میں یہ رائے پیدا ہو کہ ترمیم قومی مفاد کے بجائے کسی گروہی یا ذاتی مفاد کیلئے کی جا رہی ہے اور اس سے بعض ایسے معاملات جو ابھی غیر قانونی ہیں انہیں قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے بہت سارے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں، منفی رائے جنم لیتی ہے خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں بہت سے دستور آئے ، بہت سی ترامیم ہوئیں جو شخصیات کا نام لے بھی کی گئیں۔

اس تناظر میں جب 27 ویں ترمیم کی بات ہو ر ہی ہے تو ہمیں منفی فضا دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔ 17ویں ، 18 ویں، 19 ویں اور 26 ویں ترامیم کے موقع پر ایسی وجوہات سامنے آئیں جن میں بنیادی مقصد ملک کی سمت درست کرنا نہیں تھا بلکہ ایسے اقدامات کو قانونی حیثیت دینا تھی جو شاید ویسے دستور کی روح کے منافی تھے۔ 27 ویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ کی بات ہورہی ہے۔ 18 ویں ترمیم میں وسائل کی تقسیم میں 57 فیصد حصہ صوبوں کو دیا گیا جس کی وجہ سے مرکز کے پاس پیسے نہیں رہتے۔ مرکز نے اہم اقدامات کرنے ہیں جن میں خارجہ پالیسی، دفاع اور وفاقی حکومت چلانا شامل ہیں۔

 ان کیلئے کافی فنڈز درکار ہوتے ہیں۔ وفاق نے صوبوں کو پہلے پیسے دینے ہیں، باقی معاملات بعد میں ہیں لہٰذا صوبوں کو ان کی ضرورت سے زائد یا کافی رقم مل جاتی ہے اس لیے وہ خود پیسہ اکٹھا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور پھر مرکز کو زیادہ قرض لے کر معاملات چلانا پڑتے ہیں جس سے ملکی معیشت تباہ ہوتی جا رہی ہے۔ اس ترمیم کے تحت مجسٹریسی کا نظام واپس لایا جا رہا ہے، میرے نزدیک یہ دائروں کا سفر ہے۔ کبھی یہ نوید سنائی جاتی ہے کہ اداروں میں اختیارات کی تقسیم سے بہتری آئے گی، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات الگ الگ کرکے زبردست نظام آجائے گا، اب کہتے ہیں کہ عدالتوں میں بہت بڑی تعداد میں مقدمات زیر التوا ہیں ،ا س لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریسی کا نظام ضروری ہے،ا یسے معاملات سے ابہام پیدا ہوتا ہے۔ یہ بات کی جارہی ہے کہ قومی نصاب ایک ہونا چاہیے اس لیے تعلیم کا معاملہ وفاق کے پاس ہونا چاہیے، بہبود آبادی کا معاملہ بھی وفاق کے سپرد کرنے کی بات ہے یعنی وفاق اور صوبوں میں اختیارات کی تقسیم کو دوبارہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

میرے نزدیک آئینی ترمیم میں بنیادی طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ہماری تاریخ ایسی ہے جس میں ویسا ہوتا نہیں جیسا دکھایا جاتا ہے۔ اس لیے ہم پہلے رائے عامہ ہموار کرتے ہیں اور پھر تنقید کرتے ہیں۔ 18 ویں ترمیم ہوئی تو ہم نے کہا کہ سب کچھ پالیا ہے، مرکز اور صوبوں کے درمیان سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات سمیت دیگر معاملات طے ہوگئے ہیں۔ اس وقت بھی یہ کہا جا رہا تھا کہ وسائل کی اس تقسیم سے وفاق بے دست و پا ہوجائے گا اور اب وہ وقت آچکا ہے۔

ہمارا بجٹ 18 ہزار ارب کا صرف اس لیے ہوگیا ہے کہ ہم نے نصف سے زائد ڈیٹ سروسنگ میں دینا ہوتا ہے۔ میرے نزدیک آئینی ترمیم وقتی مفاد کیلئے نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر کی جائے تاکہ اس کے بہتر نتائج نکل سکیں۔ ابھی ترمیم نہیں ہوئی لیکن وکلاء، سیاستدان ودیگر افراد مختلف باتیں کر رہے ہیں اور عوام بھی پریشان ہیں کہ کیا ہوگا ۔ ہمیں آئین میں ترمیم کے طریقہ کار کو بہتر بنانا چاہیے۔ اس پر پارلیمان میں بحث ہو، اسے شق وار دیکھا جائے لیکن اگر ایک گھنٹے کے اندر ہی ترمیم منظور ہو تو اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔

سلمان عابد

(سیاسی تجزیہ کار)

بنیادی طور پر جو بھی حکومت ہوتی ہے اس کے پاس سیاسی ، آئینی اور قانونی اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا آئین سازی کر سکتی ہے، یہ اس کا بنیادی حق ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ ترمیم کے مقاصد کیا ہیں۔ کیا ریاست اور حکومت کے نظام کو مضبوط بنانا ہے یا شخصی حکومتوں یا غیر سیاسی قوتوں کے مفادات کو فائدہ پہنچانا ہے۔ 26ویں ترمیم جس عجلت میں کی گئی تھی اس سے یہ شکوک و شبہات ابھرے کے حکومت کو عدلیہ کے ساتھ جس محاذ آرائی کا سامنا تھا اس کی بنیاد پر عدالتوں کو کمزور کیا گیا۔ آج بھی یہ بحث جاری ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب 26 ویں ترمیم سپریم کورٹ میں چیلنج ہوچکی ہے تو 27 ویں ترمیم لانے کے پیچھے بھی آئینی اور قانونی مقصد کے بجائے سیاسی مفادات دکھائی دیتے ہیں۔ پہلے ترمیم کا مسودہ چھپایا گیا اور اب جس طرح اراکان اسمبلی سے بغیر بحث کے اسے منظور کرایا جائے گا تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے مفادات ہی ہیں۔ اس وقت تقسیم نہ صرف سیاست میں بلکہ عدلیہ اور ہر جگہ نظر آتی ہے،ا گر اس میںعدلیہ کے حوالے سے ترمیم ہوتی ہے تو حکومت، اپوزیشن اور عدلیہ میں ٹکراؤ پیدا ہوگا۔

بہتر ہوتا کہ حکومت اس پر پارلیمنٹ میں بحث کراتی، اپوزیشن کو بات کا پورا موقع ملتا تو اعتماد پیدا ہوسکتا تھا۔ ایک طرف آرٹیکل 243 ہے جس میں پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں بہتری لائی جار ہی ہے تو دوسری طرف این ایف سی ایوارڈ ہے جس میں تعلیم، صحت اور آبادی کے محکموں کو صوبوں سے لے کر وفاق کو واپس کرنا ہے۔ یہ بحث بھی پرانی ہے کہ 18ویں ترمیم سے مسائل حل نہیں ہوئے ، اس پر ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کافی دیر سے کہہ رہی ہے کہ 18 ویں ترمیم میں تبدیلیوں اور وفاق کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، صوبوں کی خودمختاری کے ساتھ ساتھ وفاق کی اپنی خود مختاری کی اہمیت بھی ہوتی ہے۔ اس پر سب سے زیادہ اعتراض پاکستان پیپلز پارٹی کو ہے جس نے آرٹیکل 243 اورآئینی عدالتوں کے قیام پر تو منظوری دی ہے لیکن 18 ویں ترمیم سے متعلقہ معاملات پر اس کے تحفظات ہیں۔ میرے نزدیک 27ویں ترمیم کے تناظر میں سیاسی تقسیم کا سکرپٹ سیاسی سودے بازی کے لیے لکھا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی چاہے گی اگر اسے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے تو اس کے مقابلے میں کہیں اور سے حصہ مل جائے۔

اس میں آزاد کشمیرمیں حکومت سازی کی دعوت بھی دی جاسکتی ہے۔ ایم کیو اکم نے لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے ترمیم کا جو بل پیش کیا ہے، وہ اس کی بات کر رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی جوڑ توڑ کی بات کر رہے ہیں۔ یہ وہی کھیل ہے جو 26 ویں ترمیم کے وقت بھی تھا لہٰذا 27 ویں ترمیم بھی منظور ہوجائے گی لیکن اس کے نتیجے میں جو آئینی ، قانونی بحران اور سیاسی ٹکراؤ پیدا ہوگا وہ پاکستان کے سیاسی استحکام کیلئے چیلنج ہوگا جو آسانی سے حل نہیں ہوگا۔

آئینی عدالتوں کے قیام میں جب عدالتی نظام کو اعتماد میں نہیں لیا جائے تو مسائل پیدا ہوں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کو تحفظ دینے کیلئے ترامیم کی جا رہی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں بھی اپوزیشن کے کردار کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کی بڑی اور چھوٹی جماعتیں تو اس کی مخالفت کر رہی ہیں لیکن حکومت اور اس کے اتحادیوں کے پاس عددی تعداد موجود ہے جس کی بناء پر ترمیم تو منظور ہوجائے گی تاہم یہ اچھا ہوگا کہ سیاسی اتفاق رائے پیدا کرکے ترمیم کی جائے ورنہ مزید ٹکراؤ ہوگا۔ جب آئین میں تبدیلیاں حکومت اور افراد کے مفادات کے تابع ہو کر چلتی ہیں تو اس سے آئین اور قانون کی شکل بدل جاتی ہے۔ ان تبدیلیوں سے حکومت اور ریاست کے معاملات تو بدلتے ہیں لیکن عوام کی زندگی میں بہتری نہیں آتی۔ 

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل اختیارات کی تقسیم ایف سی ایوارڈ ویں ترمیم میں ویں ترمیم کے مجسٹریسی کا کے حوالے سے میرے نزدیک جا رہی ہے ا بادی کے ا جائے گا ترمیم کی صوبوں کو ہوتی ہے کرنے کی ہے لیکن کے ساتھ میں بہت ہوتا ہے جاتی ہے وفاق کے پیدا ہو رہی ہیں کا نظام ہیں اور جاتا ہے کیا گیا بات ہو کی بات ہے اور اس لیے ہی ہیں رہا ہے کے پاس کا حصہ اور اس کے بعد

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا