کراچی کا سیف سٹی سسٹم ’’غیر محفوظ‘‘، بلاول ہاؤس چورنگی سے آلات چوری
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
ڈی جی آصف اعجاز شیخ کے مطابق سیف سٹی پروجیکٹ کے قیمتی آلات کی چوری تشویشناک ہے، جس سے شہر کے سکیورٹی مانیٹرنگ سسٹم پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں جرائم کی روک تھام کیلئے نصب سیف سٹی سسٹم کے آلات بھی چوروں کے نشانے پر آگئے۔ ڈی جی سیف سٹی پروجیکٹ آصف اعجاز شیخ کے مطابق بلاول ہاؤس چورنگی کے قریب کیمروں کیلئے لگایا گیا ڈسٹری بیوشن بکس چوری کر لیا گیا، جس کی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بکس چوری ہونے کے بعد متعلقہ کیمرے بند ہوگئے، جنہیں مزید نقصان سے بچانے کیلئے کھمبوں سے اتار کر محفوظ کر لیا گیا ہے۔ ڈی جی آصف اعجاز شیخ کے مطابق کیمروں سمیت سیف سٹی پروجیکٹ کے آلات کے تحفظ کیلئے پہلے ہی ڈسٹرکٹ پولیس کو ہدایت دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے قیمتی آلات کی چوری تشویشناک ہے، جس سے شہر کے سکیورٹی مانیٹرنگ سسٹم پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیف سٹی پروجیکٹ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔