قومی و صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ضمنی انتخابات میں پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے جب کے اس وقت ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف پولنگ اسٹیشز سے غیر سرکاری نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔ملک بھر میں قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 7 حلقوں میں ضمنی انتخابات کیلئے پولنگ کا عمل جو صبح 8 بجے سے جاری تھا .

شام 5 بجے ختم ہو گیا.الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بلا وقفہ شام 5 بجے تک جاری رہی۔

تفصیلات کے مطابق اس وقت مختلف پولنگ اسٹیشنز میں گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے جبکہ جن پولنگ اسٹیشنز کے اندر ووٹرز موجود تھے ان کے ووٹ کاسٹ کیے جارہے ہیں۔سیکیورٹی اداروں کی جانب سے پولنگ کے دوران سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 2792 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے جن میں 408 انتہائی حساس اور 1032 حساس قرار دیے گئے ہیں۔انتخابی علاقوں میں 2000 سے زائد اہلکار تعینات ہیں جبکہ عوام کو بلاخوف و خطر ووٹ ڈالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ پور کے این اے 18 میں 9 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہرناز، مسلم لیگ ن کے بابر نواز خان، پیپلز پارٹی کی ارم فاطمہ شامل ہیں.تاہم یہ نشست پی ٹی آئی کے عمر ایوب کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔

این اے 96 میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور آزاد امیدواروں سمیت 16 امیدوار حصہ لے رہے ہیں، حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 72 ہزار 133 جبکہ خواتین ووٹرز 2 لاکھ 72 ہزار 991 ہے۔این اے 104 میں ن لیگ کے راجہ دانیال اور آزاد امیدوار رانا عدنان جاوید سمیت 5 امیدوار میدان میں ہیں۔قومی اسمبلی کے حلقے میں کل 5 لاکھ 57 ہزار 637 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔لاہور کے این اے 129 حلقے میں مسلم لیگ ن کے حافظ محمد نعمان، آزاد امیدوار بجاش خان نیازی اور ارسلان احمد کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔اس اہم حلقے میں مجموعی طور پر 334 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گے ہیں جبکہ 70 پولنگ اسٹیشنز مرد و خواتین کے مشترکہ ہوں گے، تاہم اس نشست پر ضمنی انتخاب میاں اظہر کے انتقال کے باعث ہو رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق این اے 129 لاہور کا سیاسی طور پر فیصلہ کن حلقہ ہے .جس کے نتائج شہر کی مجموعی سیاسی سمت پر اثرانداز ہوں گے۔ساہیوال کے تیسرے بڑے حلقے این اے 143 میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے جبکہ کل رجسٹر ووٹرز کی تعداد 584,698 ہے۔این اے 185 میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے امیدوار میدان میں ہیں۔ تینوں جماعتوں میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔وزیرآباد کے این اے 66 کے حلقے میں پیپلز پارٹی اور دیگر امیدواروں کی دستبرداری کے بعد مسلم لیگ ن کے بلال فاروق تارڑ بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔

پنجاب اسمبلی

حلقہ پی پی 87 میانوالی 3 میں 193 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، مجموعی طور حلقہ بھر میں 640 پولنگ بوتھ قائم ہیں جن میں 332 مردانہ اور 308 خواتین کے پولنگ بوتھ ہیں جبکہ کل رجسڑڈ ووٹر کی تعداد 283272 ہے۔

سیکیورٹی ہائی الرٹ

پنجاب کے قومی و صوبائی حلقوں میں ضمنی انتخابات کیلئے پولیس نے سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے، تاہم سکیورٹی پر 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق ووٹرز کو پرامن ماحول فراہم کیا جائے گا،.ابطہ اخلاق اور دفعہ 144 کی سختی سے پابندی کروائی جائے گی جبکہ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سیسی ٹی وی مانیٹرنگ جاری ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پولنگ اسٹیشنز ضمنی انتخابات آزاد امیدوار پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن اسمبلی کے کے مطابق گئے ہیں کیے گئے کا عمل

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع

فائل فوٹو 

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع