کھپرو میں صوبائی محتسب اعلیٰ کی کھلی کچہری کا انعقاد، شہریوں کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کھپرو (نمائندہ جسارت)کھپرو میں صوبائی محتسب اعلیٰ سندھ کی کھلی کچہری—شہریوں کی شکایات کے فوری حل کی یقین دھانی کروائی ۔ تفصیلات کے مطابق۔صوبائی محتسب اعلیٰ سندھ کے ریجنل ڈائریکٹر غلام شبیر میمن کی جانب سے مقامی ایک نجی ہال میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں شہری، سماجی رہنما اور مختلف سرکاری محکموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ کھلی کچہری کا بنیادی مقصد عوام کے مسائل سننا، سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور شہریوں کو درپیش پریشانیوں کا فوری حل فراہم کرنا تھا۔ غلام شبیر میمن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی محتسب کا ادارہ عوامی خدمت کے لیے قائم ہے، جہاں ہر شہری بغیر کسی سفارش اور فیس کے اپنی شکایت درج کرا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران کی نااہلی، سستی یا قواعد کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی، اور عوامی شکایات کے حل میں کسی بھی قسم کی کوتاہی قابلِ قبول نہیں۔ کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے مختلف سرکاری محکموں—خصوصاً بلدیہ، واٹر سپلائی، تعلیم، صحت، بجلی اور محکمہ مال کے خلاف شکایات پیش کیں۔ بیشتر شہریوں نے بجلی کے غیر ضروری بل، اسکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری، صفائی کی ناقص صورتحال، صحت کے اداروں میں سہولیات کی کمی اور واٹر سپلائی کی خرابی جیسے مسائل کی نشاندہی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کھلی کچہری
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔