سوڈان میں ڈرون حملہ: 43 بچے سمیت 79 شہری جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
سوڈان کی جنوبی کردفان ریاست میں رپیڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے ڈرون حملے میں کم از کم 79 شہری جاں بحق اور 38 زخمی ہوگئے، ہلاک ہونے والوں میں 43 بچے اور چار خواتین بھی شامل ہیں۔
ریاستی حکومت کے مطابق حملہ کالوگی شہر میں کیا گیا جہاں ڈرون نے چار میزائل فائر کیے، میزائل ایک نرسری، اسپتال اور گنجان آباد رہائشی علاقوں پر گرے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوئے، حکومت نے اس حملے کو سنگین اور بہیمانہ جرم قرار دیتے ہوئے اس کا الزام آر ایس ایف کے اتحادی گروپ ایس پی ایل ایم نارتھ پر لگایا۔
حکومت نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایف کو دہشت گرد تنظیم قرار دیں اور ان کے اتحادیوں کو ان جرائم کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔
دوسری جانب حملے پر باغی گروپ کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا، کردفان کے تینوں ریاستوں شمالی، مغربی اور جنوبی میں گزشتہ کئی ہفتوں سے فوج اور آر ایس ایف میں شدید جھڑپیں جاری ہیں جس کے باعث ہزاروں شہری نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
واضح رہے کہ اپریل 2023 سے جاری سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جنگ میں اب تک کم از کم 40 ہزار افراد ہلاک اور 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل آر ایس ایف
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔