آذربائیجان کی دوطرفہ تجارتی سامان لے جانے والی رجسٹرڈ گاڑیوں کو پاکستان میں داخلے کی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
آذربائیجان کی دوطرفہ تجارتی سامان لے جانے والی رجسٹرڈ گاڑیوں کو پاکستان میں داخلے کی اجازت WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وفاقی حکومت نے ٹرانزٹ اور دوطرفہ تجارتی سامان لے جانے والی آذربائیجان کی رجسٹرڈ گاڑیوں کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دے دی، ایف بی آر نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
ایف بی آر کا جاری کردہ نوٹیفکیشن کراچی پورٹ، پورٹ محمد بن قاسم اور گوادر پورٹ کے ذریعے درآمد کیے جانے والے آذربائیجان کے کارگو کا احاطہ کرے گا، نوٹیفکیشن کے مطابق کسٹمز کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے تحت مخصوص بندرگاہوں کے ذریعے ٹرانزٹ ٹریڈ کارگو کی پروسیسنگ کی جائے گی۔
آذربائیجان کی رجسٹرڈ گاڑیاں باہمی تعاون کی بنیاد پر عائد ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے لیے کسی مالی تحفظ کی ضرورت کے بغیر پاکستان میں داخل ہوں گی، تمام ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور کسٹم کلیئرنگ ایجنٹوں کو کسٹمز کے ساتھ گردشی انشورنس گارنٹی پی ڈی اکاونٹ کھولنے اور برقرار رکھنے کی ضرورت ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نئے قوانین کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل ریفارمز اینڈ آٹومیشن کراچی ایک یا ایک سے زیادہ صارفین کی آئی ڈیز تیار کرے گا، تاجر، سرکاری تنظیمیں، اقوام متحدہ یا سفارتی مشن مطلوبہ رجسٹریشن پروفارما مکمل کریں گے جو آذربائیجان کی متعلقہ وزارت کی طرف سے کسٹمز کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں الیکٹرانک طور پر پیش کیا جائے گا۔
پاکستان سے باہر نکلنے یا داخل ہونے والی ہر گاڑی کے پاس مجاز اتھارٹی کی جانب سے مقررہ فارمیٹ پر جاری کردہ درست اجازت نامہ ہوگا، ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانزٹ ٹریڈ، پشاور، کوئٹہ اور گوادر اپنے متعلقہ زمینی سرحدی کسٹم اسٹیشنوں پر اجازت نامے جاری کرنے کے مجاز ہوں گے۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آذربائیجان کی پاکستان میں
پڑھیں:
IMF حکم،FBR افسران کے اثاثہ جات ڈیکلریشن کا نوٹیفکیشن جاری
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی ایک اور بڑی شرط پوری کردی ہے، اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثہ جات ظاہر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 237 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے شیئرنگ آف ڈیکلیریشن آف ایسیٹس آف سول سرونٹس رولز 2023 میں اہم ترامیم متعارف کرا دی ہیں۔
مذکورہ ترامیم اس سے قبل 7 اکتوبر 2025 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن 1912(I)/2025 کے تحت شائع کی گئی تھیں جنہیں قانون کے مطابق عوامی رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔
ایف بی آر کےجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئے قواعد میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں، سب سے اہم ترمیم یہ ہے کہ قواعد میں جہاں کہیں بھی لفظ سول استعمال ہوا ہے وہاں پبلک کا لفظ شامل کر دیا گیا ہے اور ایک کی ذیلی شق (1) میں بھی یہی تبدیلی منظور کی گئی ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے رول 2 میں ایک نئی شق(ii-a) شامل کی گئی ہے جس کے مطابق پبلک سرونٹ سے مراد وفاقی یا صوبائی حکومتوں، خود مختار اداروں، سرکاری کارپوریشنز یا حکومتی ملکیتی کمپنیوں کے ایسے افسران ہوں گے جن کا پے اسکیل 17 یا اس سے اوپر ہو اور اس تعریف میں وہ ملازمین بھی شامل ہوں گے جو سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت آتے ہیں۔
اس شق میں ایسے افراد شامل نہیں ہوں گے جنہیں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 5 کے کلاز (n) کی ذیلی شق (iv) میں استثنیٰ دیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ان ترامیم کا مقصد قواعد کو زیادہ جامع اور ہم آہنگ بنانا ہے، تاکہ سرکاری و نیم سرکاری افسران کے اثاثوں کی معلومات کے تبادلے کا نظام مزید واضح، مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔