جی ڈی اے کا 8 فروری کو سندھ بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
کراچی:
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے جعلی انتخابات، نئے کینال نکالنے، امن و امان کی خراب صورتحال اور متنازعہ پیکا قوانین کے خلاف 8 فروری کو سندھ بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کردیا۔
جی ڈی اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صفدر عباسی نے اپنے بیان میں کہا کہ 8 فروری کا دن ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، جب ریکارڈ دھاندلی کے ذریعے سندھ کے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا اور جی ڈی اے کے امیدواروں کو زبردستی شکست دی گئی۔ کارکنان اس دن سیاہ پرچم لہرائیں گے اور بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے، ضلعی ہیڈ کوارٹرز کے پریس کلبوں کے سامنے پُرامن احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم نے ملک میں آئینی بحران کو جنم دیا ہے اور اب تو جج بھی سیاسی جماعتوں کے حمایت یافتہ مقرر کیے جا رہے ہیں، جو عدالتی نظام کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔
ڈاکٹر صفدر علی عباسی نے متنازعہ پیکا قوانین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کے نفاذ سے آزاد صحافت کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے حکومت سے عوام دشمن پیکا قوانین کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
سندھ میں پانی کی قلت پر بات کرتے ہوئے جی ڈی اے کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پہلے ہی صوبے میں کسان اور کاشتکار پانی کی کمی سے شدید متاثر ہیں اور اب دریائے سندھ پر نئے کینال بنا کر زمینوں کو بنجر بنانے کی ایک گہری سازش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین واپڈا نے حالیہ بریفنگ میں نئے کینال بنانے کی ذمہ داری کو آشکار کیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سارا منصوبہ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کی منظوری سے کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔