اسلام آباد:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پریونشن آف اسمگلنگ آف مائیگرنٹس اور بھکاریوں کے حوالے سے سزاؤں میں اضافہ کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

سینیٹر فیصل سلیم کی صدرات میں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں حکومت کی جانب سے پریونشن آف اسمگلنگ آف مائیگرنٹس بل پیش کیا گیا۔

سیکریٹری داخلہ خرم آغا نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ بہت زیادہ ہوگئی اس حوالے سے یہ بل اہم ہے، بل میں کنوکشن اور سزاوں کے حوالے سے اقدامات کا کہا گیا ہے۔

سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ سزائیں بڑھانے کا مقصد یہ ہے کہ ملزمان کی ضمانتیں جلد نہ ہو سکیں، اس بل کو پاس کر دینا چاہیے۔

سیکریٹری داخلہ خرم آغا نے کہا کہ پہلے اس میں سب سے زیادہ سزا 7 سال تھی اب اس کو 10سال تک بڑھایا جائے گا۔

کمیٹی کی جانب سے بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

اس کے بعد، بھکاریوں کے حوالے سے سزاوں میں اضافہ کرنے کے حوالے سے بل بھی کمیٹی میں پیش کیا گیا۔

وزارت قانون نے کہا کہ بل میں بھکاریوں کی معاونت کرنے والوں اور سہولت کاروں کی سزاؤں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، اب بھکاریوں کے سہولت کاری کرنے والوں اور بھیک مانگنے پر مجبور کرنے والوں کو 10 سال سزا ہوگی۔

کمیٹی نے بھکاریوں کے حوالے سے بل کو بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھکاریوں کے کے حوالے سے نے کہا کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان