سینیٹ کمیٹی میں بھکاریوں سے متعلق سزاؤں میں اضافے کا بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
اسلام آباد:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پریونشن آف اسمگلنگ آف مائیگرنٹس اور بھکاریوں کے حوالے سے سزاؤں میں اضافہ کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
سینیٹر فیصل سلیم کی صدرات میں قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں حکومت کی جانب سے پریونشن آف اسمگلنگ آف مائیگرنٹس بل پیش کیا گیا۔
سیکریٹری داخلہ خرم آغا نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ بہت زیادہ ہوگئی اس حوالے سے یہ بل اہم ہے، بل میں کنوکشن اور سزاوں کے حوالے سے اقدامات کا کہا گیا ہے۔
سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ سزائیں بڑھانے کا مقصد یہ ہے کہ ملزمان کی ضمانتیں جلد نہ ہو سکیں، اس بل کو پاس کر دینا چاہیے۔
سیکریٹری داخلہ خرم آغا نے کہا کہ پہلے اس میں سب سے زیادہ سزا 7 سال تھی اب اس کو 10سال تک بڑھایا جائے گا۔
کمیٹی کی جانب سے بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
اس کے بعد، بھکاریوں کے حوالے سے سزاوں میں اضافہ کرنے کے حوالے سے بل بھی کمیٹی میں پیش کیا گیا۔
وزارت قانون نے کہا کہ بل میں بھکاریوں کی معاونت کرنے والوں اور سہولت کاروں کی سزاؤں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، اب بھکاریوں کے سہولت کاری کرنے والوں اور بھیک مانگنے پر مجبور کرنے والوں کو 10 سال سزا ہوگی۔
کمیٹی نے بھکاریوں کے حوالے سے بل کو بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھکاریوں کے کے حوالے سے نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔