Jasarat News:
2026-06-02@23:48:30 GMT

معیشت کی بہتری یا محض اعداد وشمار کا کھیل؟

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT

معیشت کی بہتری یا محض اعداد وشمار کا کھیل؟

پاکستان کی معیشت کے بارے میں حالیہ دنوں میں جو تصویر پیش کی جا رہی ہے، اس کا عکس بھی عملی دنیا میں نظر نہیں آرہا ہے، افراطِ زر کی شرح میں نمایاں کمی، بنیادی شرح سود میں تخفیف، اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ جیسے عوامل کو معاشی کامیابیوں کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ کے سربراہ، نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ معاشی بہتری اور مہنگائی میں کمی ملک و قوم کے لیے اچھے اشارے ہیں۔ جبکہ حکومت نے مہنگائی میں کمی کا دعویٰ کیا ہے اس کے برعکس 13 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیاد پر 1.

02 فی صد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ یہاں تک کہ ڈیزل، چینی، لہسن، نمک، پٹرول، سگریٹ، کپڑا، خشک دودھ اور جلانے کی لکڑی مہنگی ہوئیں ہیں۔ عام آدمی کی حالت ِ زار کو دیکھتے ہوئے حکومتی دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ سڑکوں پر مزدور ضرور نظر آتے ہیں، مگر ان کے پاس کام نہیں ہے۔ صرف افراط زر کی شرح کو بیان کر کے خوشی سے بغلیں بجانا درست نہیں ہے۔ افراط زر کا اصل فائدہ تب ہوتا ہے، جب پیداوار اور لوگوں کی آمدن بڑھ رہی ہو اور ان کی قوت خرید اتنی ہو کہ وہ کم افراط زر میں اپنی ضروریات کی چیزیں خرید سکیں۔ پاکستان میں ہونے والے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور بھاری ٹیکسوں کے بعد لوگوں کی حقیقی آمدن بہت کم ہو چکی ہے۔ حکومت نے درآمدات کم کر دیں، عوام پر ٹیکسوں کا بھاری بوجھ لاد دیا، ملک میں غربت بڑھ گئی، اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو چکا ہے، اور آئی ایم ایف سے ہونے والا معاہدہ بھی مسائل کا شکار ہے۔ ٹیکس وصولی میں کمی اور ٹیکس چوری کے بڑھنے سے قرضوں کی ادائیگی میں دشواری ہو رہی ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے اپنی کامیابیوں کا ڈھول پیٹنا سمجھ سے باہر ہے۔ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ’’فچ‘‘ کی رپورٹ پاکستان کی مالیاتی استحکام کی چند کامیابیوں کو تسلیم کرتی ہے، مگر ساتھ ہی بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور آئی ایم ایف کے پروگرام میں تاخیر کے خطرات کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سخت مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے مہنگائی کو قابو میں رکھا اور جاری کھاتوں کے خسارے کو سرپلس میں تبدیل کیا۔ لیکن کیا یہ تبدیلیاں پاکستان کے مزدور طبقے کے حالاتِ زندگی میں کوئی واضح بہتری لا سکی ہیں؟ مہنگائی کی شرح میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ قیمتیں کم ہو گئی ہیں بلکہ یہ صرف قیمتوں کے بڑھنے کی رفتار میں سست روی کی عکاسی کرتا ہے۔ عام شہری کے لیے جو روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی کا سامنا کرتا ہے، یہ شرح کمی محض ایک ظاہری عددی خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں۔ پاکستان کی معیشت کی اصل کمزوری اس کی پیداواری صلاحیت میں کمی ہے جس پر ابھی تک کسی بھی حکومت نے سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔ پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی میں اجرتوں کی سب سے زیادہ اوسط سالانہ شرحِ نمو محض 12 فی صد رہی ہے۔ یہ توقع کرنا کہ اجرتیں تقریباً دوگنا رفتار سے بڑھیں گی، اقتصادی منطق کے خلاف ہے۔ پاکستان کو مستقل طور پر ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا رہتا ہے، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ، اور افرادی قوت کی پیشہ ورانہ تربیت وہ عوامل ہیں جو معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کر سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پالیسیاں بناتے وقت زمینی حقائق کو مدنظر رکھے اور ایسے اقدامات کرے جو عام آدمی کی قوت خرید میں حقیقی اضافہ کریں۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے ضروری ہے کہ معیشت کو صرف اعداد وشمار کی روشنی میں نہ دیکھا جائے بلکہ ان اعداد کے پیچھے چھپے ہوئے حقیقی مسائل کو سمجھا جائے۔ جب تک عام آدمی کی زندگی میں مثبت تبدیلی نہیں آتی، تب تک معیشت کی ترقی کے تمام دعوے محض کاغذی حیثیت رکھتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم