سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت شروع ہو گئی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ کیس کی سماعت کررہا ہے، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی بنچ میں شامل ہیں جبکہ جسٹس مسرت ہلالی ،جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بنچ کا حصہ ہیں۔
سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی کے آج بھی دلائل جاری ہیں، اس سے قبل بانی پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری ،بیرسٹر اعتزار احسن کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل مکمل کیے۔
قبل ازیں فوجی عدالت سے سزا یافتہ مجرم ارزم جنید کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں ، درخواست گزار کے وکیل خواجہ احمد حسین بھی دلائل مکمل کر رکھے ہیں جبکہ وفاق، پنجاب، بلوچستان، وزارت داخلہ، وزارت قانون اور شہداء فاؤنڈیشن نے خواجہ حارث کے دلائل اپنا لئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے وکیل
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب