بلوچستان: دہشتگردوں کی کوسٹل ہائی وے پر ناکہ بندی، درجن سے زائد گیس باؤزر جلا دیے
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
بلوچستان(نیوز ڈیسک)کوسٹل ہائی وے بزی ٹاپ کے مقام پر مسلح دہشت گردوں نے گاڑیوں پر حملہ کر دیا، مسلح افراد نے ناکہ بندی کرتے ہوئے ایک درجن سے زائد گیس باؤزر جلا دیے۔نجی چینل کے مطابق مسلح دہشت گردوں نے کوسٹل ہائی وے پر بزی ٹاپ کے مقام پر ناکہ لگا کر گاڑیوں کو روکا، اس دوران پولیس موبائل کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔دہشت گردوں نے پسنی اور اورماڑہ کے درمیان کوسٹل ہائی وے پر ناکہ بندی کر رکھی تھی، جنہوں نے نے ایک درجن سے زائد گیس باؤزر کی گاڑیاں جلا دیں، واقعے کی اطلاع ملنے پر فورسز کی بھاری نفری کو جائے وقوع کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔واقعے کے بعد مسلح دہشت گرد فرار ہوگئے، جب کہ کوسٹل ہائی وے پر عارضی طور پر معطل ٹریفک بحال ہوگیا۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل بلوچستان کے ضلع قلات میں قومی شاہراہ پر سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب خودکش دھماکے کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کا ایک اہلکار شہید، جب کہ 4 زخمی ہو گئے تھے۔وزارت داخلہ کی جانب سے ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق حملہ قومی شاہراہ پر قلات کے علاقے مغل زئی کے قریب ہوا۔ڈپٹی کمشنر قلات بلال شبیر نے بتایا تھا کہ دھماکے میں ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور دیگر 4 سپاہی زخمی ہوئے تھے، ابتدائی معلومات کے مطابق خودکش حملہ آور خاتون تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد طبی امداد دی گئی، دھماکا اس وقت ہوا جب مڈوے کے قریب سیکیورٹی فورسز کا قافلے گزر رہا تھا۔وزارت داخلہ کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر پوسٹ میں ایک بیان میں کہا گیا کہ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے 4 ایف سی اہلکاروں کو علاج و معالجے کی بہترین خدمات فراہم کی جائیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع خضدار میں گاڑی پر فائرنگ سے جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے 2 رہنما جاں بحق اور 2 افراد زخمی بھی ہوگئے تھے۔
کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کی نہ خودش بمبار کا ریکارڈ مل سکا، حقانیہ حملے پر افسران پریشان
.ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
غیر مسلح ہونے کا فیصلہ قومی مذاکرات سے ہوگا، اسرائیل غزہ معاہدے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، حماس
حماس نے غزہ معاہدے کے حوالے سے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم نے پہلے مرحلے کی تمام شرائط مکمل طور پر پوری کر دی ہیں، جب کہ اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسرے مرحلے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
عرب میڈیا سے گفتگو میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ رفح میں محصور عسکریت پسندوں کے خلاف اسرائیلی اقدامات معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
حازم قاسم نے بتایا کہ حماس کے وفد کا قاہرہ کا دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک دوسرے مرحلے میں آگے بڑھنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ اسلحہ حوالے کرنے کے معاملے پر حماس کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف فلسطینی قومی مذاکرات اور داخلی مشاورت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ادھر اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر اسرائیلی قیادت میں اختلافات ابھر رہے ہیں۔
اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا کا صبر اسرائیل کے رویے سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام اس بات پر قائم ہیں کہ باقی ماندہ یرغمالیوں کی لاشیں ملنے تک وہ دوسرے مرحلے میں داخل نہیں ہوں گے، جب کہ رفح کی سرنگوں میں موجود حماس کے ارکان کا معاملہ بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اسرائیلی چینل 14 کے مطابق امریکا کے طے شدہ شیڈول کے تحت جنوری کے وسط میں بین الاقوامی استحکام فورس کے غزہ کے علاقے رفح پہنچنے کا امکان ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ اسرائیلی فوج رفح میں بھاری مشینری داخل کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے۔
غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل سے ریڈ کراس کے ذریعے 15 مزید فلسطینیوں کی لاشیں وصول کی گئی ہیں، جس کے بعد مجموعی تعداد 345 ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق ابھی تک 99 لاشوں کی شناخت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ باقی کی دستاویزی کارروائیاں جاری ہیں۔ حماس نے بھی دو یرغمالیوں کی باقیات کی تلاش جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے۔