بلوچستان ہائی کورٹ نے سینیٹر ایمل ولی خان کے انتخاب کو درست قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
بلوچستان ہائی کورٹ نے سینیٹر ایمل ولی خان کے انتخاب کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کا انتخاب درست قرار دے دیا۔
جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ شہری محمد علی کنرانی کی جانب سے ایمل ولی خان کے سینیٹر منتخب ہونے کے عمل کو چیلنج کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: وفاق کے فیصلے کے برعکس کے پی حکومت نے ایمل ولی کو سیکیورٹی فراہم کردی
عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا کہ سینیٹ انتخابات کے تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں، اس لیے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کی جاتی ہے۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
سینیٹر ایمل ولی خان کی جانب سے کیس کی پیروی معروف قانون دان سنگین خان ایڈووکیٹ نے کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمل ولی اے این پی بلوچستان ہائیکورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمل ولی اے این پی بلوچستان ہائیکورٹ ایمل ولی خان
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔
توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
نوٹس متن کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.