فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 7 رکنی آئینی بنچ کررہا ہے۔

 وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے جواب الجواب میں دلائل جاری رکھے، سماعت کے آغاز میں ہی جسٹس محمد علی مظہر نے یاددہانی کرائی کہ خواجہ صاحب جواب الجواب مختصر ہوتے ہیں، جو پوائنٹس پہلے کور نہیں کر سکے اور مخالف وکلا کی جانب سے اٹھائے گئے اس پر معاونت کریں۔

یہ بھی پڑھیں: ’آرمی ایکٹ سویلین کا ٹرائل کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا‘، ملٹری ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

جس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ مخالف وکلا نے فیصلے پر دلائل نہیں دیے، بنیادی طور پر چار پوائنٹس ہیں جو مخالف وکلا کی جانب سے اٹھائے گئے، مخالفین نے آرٹیکل 61,175,245 اور فیئر ٹرائل پر دلائل دیے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ عدالتیں آرٹیکل 175 کے تحت بنیں، بتائیں کیا یہ عدالت بھی اس کے تحت بنیں، جسٹس جمال خان مندوخیل بولے؛ کوئی ایسا فورم ہے جو 175کے تحت نہ بنا ہو اور وہ سویلین کا ٹرائل کر سکتے ہوں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: آئینی بینچ نے وزارت دفاع سے سویلینز کے اب تک ہونے والے ملٹری ٹرائلز کی تفصیلات طلب کرلیں

جسٹس امین الدین خان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف کے وکلا نے کہا انٹرا کورٹ اپیل کا دائرہ محدود ہے، نیا آئینی بینچ مقدمہ سن رہا ہے تمام میرٹس زیر بحث آسکتے ہیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر بولے؛ یہ آئینی بینچ ہے کوئی ہائیکورٹ نہیں کہ دائرہ سماعت محدود ہوگا۔

وکیل خواجہ حارث کا موقف تھا کہ آئینی بینچ تو اپیل میں کیس واپس بھی بھیج سکتا ہے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل  کا کہنا تھا کہ ہم مرکزی فیصلے سے اتفاق بھی کر لیں تو اپنی رائے الگ سے دے سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سویلینز کا ملٹری ٹرائل: سپریم کورٹ کا کسی پارٹی کے دلائل پر انحصار لازمی نہیں ہوتا، جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس

خواجہ حارث نے کہا کہ ایف بی علی کیس میں آرٹیکل 6 کی شق 3 کے تحت بنیادی حقوق کی بات نہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 6 کی شق 3 میں بنیادی حقوق مستثنیٰ کر دیے گئے ہیں، آرٹیکل 6 کی شق 3 میں نہیں آتا، اگر آتا ہوتا تو بنیادی حقوق ملتے۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ اگر بنیادی حقوق متاثر ہوتے تو آرٹیکل 6 کی شق نمبر 1 میں آتا، جسٹس محمد علی مظہر بولے؛ وہ کسی مخصوص ٹرم کے لیے کہہ رہے ہیں، خواجہ حارث کے مطابق یہ آرڈیننس اس مقصد کے لیے نہیں بنائے گئے تھے جس کا ذکر آرٹیکل 6 کی ذیلی شق 3 میں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئینی بینچ ایف بی علی کیس بنیادی حقوق جسٹس امین الدین خان جسٹس جمال خان مندوخیل جسٹس محمد علی مظہر خواجہ حارث سپریم کورٹ سویلینز ملٹری ٹرائل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف بی علی کیس بنیادی حقوق جسٹس امین الدین خان جسٹس جمال خان مندوخیل جسٹس محمد علی مظہر خواجہ حارث سپریم کورٹ سویلینز ملٹری ٹرائل جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 6 کی شق بنیادی حقوق ملٹری ٹرائل خواجہ حارث سپریم کورٹ جسٹس جمال کے لیے کے تحت

پڑھیں:

ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج

سیشن کورٹ لاہور میں ریاست مخالف ٹویٹ کرنے کے مقدمے میں عدالت نے صنم جاوید(Sanam javed) اور فلک جاوید(Falak Javed) کا جیل ٹرائل کے لیے دائر درخواست خارج کردی ۔

عدالت نے این سی سی آئی اے کو ہدایت دی کہ جیل ٹرائل کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کیا جائے۔

مزیدپڑھیں:سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی نے این سی سی آئی اے کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے مین کیس کی سماعت دس ستمبر تک ملتوی کردی۔

مقدمے میں فلک جاوید کو حاضری کے لیے عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، این سی سی آئی اے نے مقدمے کا چالان جمع کروا رکھا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ