جعفر ایکسپریس واقعہ پر بھارتی میڈیا، بی ایل اے اور پی ٹی آئی ایک زبان بول رہے تھے، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے بلوچستان میں آپریشن منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ افسوس کے ساتھ انڈین میڈیا، بی ایل اے اور پی ٹی آئی اس واقعہ پر ایک زبان بول رہے تھے، کاش یہ اس آپریشن کے حوالے سے مصدقہ معلومات پر بات کرتے۔
جعفر ایکسپریس سانحہ پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستانی شہریوں کو یرغمال بنانے والے 33 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ آپریشن شروع ہونے سے پہلے 21 جانوں کا نقصان ہوا جبکہ پاک فوج کے 4 جوان شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں جعفر ایکسپریس حملہ: سیکیورٹی فورسز کا آپریشن مکمل، تمام دہشتگرد ہلاک، 21 مسافر اور 4 جوان شہید
انہوں نے کہاکہ آپریشن کے دوران بہادری اور دلیری کے ساتھ پاک فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ کیا۔ ٹرین میں 440 افراد سوار تھے، پاک فوج، ایف سی، ایس ایس جی اور ایئر فورس نے مہارت سے اس آپریشن کو مکمل کیا۔
انہوں نے کہاکہ بھارتی میڈیا کی طرف سے بہت افسوسناک پروپیگنڈا کیا گیا، کچھ سیاسی عناصر نے اس افسوسناک واقعہ کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے استعمال کیا۔
وزیر اطلاعات نے کہاکہ وزیراعظم نے کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں کی تعریف کی ہے، اس سانحہ پر جو سیاست کھیلی گئی، اس کی مذمت کرتے ہیں۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ پاکستان میں اس طرح کے واقعات کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، یرغمال مسافروں کو بازیاب کرا کے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جھوٹا بیانیہ بنانے پر تحریک انصاف کو شرمسار ہونا چاہیے، اللہ کا شکر ہے ہم بڑے نقصان سے بچ گئے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہاکہ جب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے، دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے، دہشت گردی کی کارروائیوں کے خلاف افواج پاکستان، سیکیورٹی فورسز، پولیس اور رینجرز متحرک ہیں، دہشت گردوں کا تعاقب کیا جائےگا۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان آپریشن انتہائی پیشہ ورانہ صلاحیت سے مکمل کیا گیا، وزیراعظم شہباز شریف، حکومت پاکستان، افواج پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کا دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا غیر متزلزل عزم ہے۔
انہوں نے کہاکہ بی ایل اے کے دہشت گردوں نے اپنے آپ کو ایکسپوز کیا، ان کی سازش ناکام ہوئی، دہشت گرد کبھی بھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں جعفر ایکسپریس حملہ: ٹرین کا ڈرائیور معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا
وزیر اطلاعات نے کہاکہ دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے حوصلے اور ہمت کے ساتھ تیار ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے بات ہوئی ہے، کل وزیراعظم بلوچستان کا دورہ کریں گے اور تفصیل سے لائحہ عمل پر روشنی ڈالیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آرمی چیف بھارتی میڈیا بی ایل اے پی ٹی آئی دہشتگردی عطااللہ تارڑ وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رمی چیف بھارتی میڈیا بی ایل اے پی ٹی ا ئی دہشتگردی عطااللہ تارڑ وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزیر اطلاعات وی نیوز انہوں نے کہاکہ جعفر ایکسپریس وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ بی ایل اے کے ساتھ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :