Express News:
2026-07-24@15:15:08 GMT

’’خوشخبری‘‘ ، عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا

اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT

وزیر اعظم شہباز شریف نے پٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس میں 10روپے لیٹر اضافہ کردیا ہے۔اس سے حاصل آمدنی بجلی کے نرخوں میں ڈیڑھ روپے فی یونٹ کمی کے لیے استعمال ہو گی۔

خزانہ اور توانائی کی وزارتوں کے حکام کے مطابق پٹرولیم لیوی بڑھا کر 70روپے فی لیٹر کرنے سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی نہیں ہو سکے گی۔ اس طرح پٹرولیم ٹیکس میں اضافے سے حکومت نے شہریوں کو بڑے ریلیف سے محروم کردیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات کے نتیجے میں عالمی معیشت بحران کا شکار ہو گئی ہے ۔ خاص طور پر امریکا کینیڈا کی ٹیرف لڑائی میں اس بحران کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی واقع ہو گئی ہے ۔

عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتوں میں جتنی کمی واقع ہوئی ہے اس حساب سے تو 15روپے فی لیٹر کمی ہونی چاہیے ۔ پچھلے کئی ہفتوں سے خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر کمی ہوگی لیکن عین اس وقت جب یہ کمی ہونا تھی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے سے انکار کردیا اور بجائے اس کے پٹرول پر ٹیکس مزید دس روپے بڑھا دیا۔ کیونکہ وفاقی حکومت کے پاس پٹرول پر 70روپے فی لیٹر تک لیوی لگانے کا اختیار ہے ۔

وزیر پٹرولیم نے کہا کہ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل ، بجلی کے بھاری بلوں کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کیا جارہا ہے ۔ جس سے گھریلو صارفین اور صنعت دونوں متاثر ہو رہے ہیں ۔ خطے میں بجلی کی قیمتیں پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں حکومتی اندازے کے مطابق اضافی لیوی سے 180ارب روپے سالانہ حاصل ہونگے جو بجلی کی قیمت 1.

50روپے فی یونٹ کم کرنے کے لیے استعمال ہونگے ۔

ہمسایہ ملکوں کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرول کی زیادہ قیمت کی اصل وجہ روپے کی کمزور قدر ہے اور اس کے بعد دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمسایوں ملکوں کے مقابلے میں پاکستان میں فی کس آمدن کم ہونے کی وجہ سے شہری ایندھن اور بجلی کی زیادہ قیمتیں ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ۔لیوی میں نئے اضافے سے پٹرول پر مجموعی ٹیکس بڑھ کر 86روپے فی لیٹر ہوجائیں گے ۔ لیوی بڑھانے سے 16دنوں میں 50ارب روپے کی آمدن متوقع ہے ۔ ذرایع کے مطابق گزشتہ جولائی تا فروری تک 718ارب روپے لیوی حاصل ہوئی۔ جب کہ رواں مالی سال پٹرولیم ، ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف 1281ارب روپے ہے ۔ اب لیوی میں اضافے سے ہر ماہ دس ارب روپے اضافی زیادہ ملیں گے ۔

عوام کے ساتھ کیا ہورہا ہے اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ فیصل آباد چیمبر آف اسمال انڈسٹریز کے صدر نے کہا ہے کہ حکومت نیٹ میٹرنگ سے گرڈ میں آنے والی بجلی 27روپے سے کم کرکے 10روپے فی یونٹ مقرر کر کے گھریلو صارفین کا استحصال کررہی ہے۔ حکومت کوگھریلو صارفین سے نیٹ میٹرنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت کم کرنے کے بجائے نجی بجلی گھروں سے حاصل ہونے والی مہنگی بجلی کی قیمت کم کروانے پر توجہ دینی چاہیے ۔

حکومت کے اس فیصلے سے عام شہریوں کی سولر سسٹم لگوانے پر ہونے والی اربوں روپے کی سرمایہ کاری متاثرہونے کا اندیشہ ہے ۔ اگر حکومت سولر انرجی اور نیٹ میٹرنگ کی پالیسی کو عوام دوست بنائے تو پاکستان کے شہری نجی بجلی گھروں کے مقابلے میں چار سے پانچ گنا سستی بجلی پیدا کرکے ریاست پاکستان کے لیے کھربوں روپے کی بچت کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے چیئر مین نے بھی ان نئے حکومتی اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مزید خوشخبری یہ کہ اس مرتبہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھیں گی اتنی شدید مہنگائی کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا ۔ لگتا ہے کہ حکومت سمجھتی ہے کہ عوام خوشحال ہو گئے ہیں ۔ جب کہ وفاقی وزرائے مملکت مشیروں کی تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں تین گنا سے بھی زیادہ اضافہ کردیا گیا ہے ۔ یعنی اب وفاقی وزیر تنخواہ 2لاکھ روپے کے بجائے 5لاکھ روپے سے زائد لے گا۔ الاؤنسز ، گاڑی ، دفتر اخراجات اندرون اور بیرون ملک مفت سفر اس کے علاوہ ہیں ۔ اس میں فیملی بھی شامل ہے ۔جب کہ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں دو ماہ پہلے ہی بڑھائی جا چکی ہیں ۔

عوام بیچارے بے بس ہیں کر بھی کیا سکتے ہیں ۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی قیمتوں میں روپے فی لیٹر بجلی کی قیمت پٹرول کی روپے کی کے لیے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام اور پمپ مالکان پریشان، 90 فیصد لوگوں کا ٹنکی فُل کروانا خواب بن گیا
  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان