بہادر خیل کرک میں سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس کا مشترکہ آپریشن؛ دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT
سٹی 42: بہادر خیل کرک کے دشوار گزار پہاڑوں میں سے سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس کا مشترکہ آپریشن کیا گیا ، بد نام زمانہ کلیم اللّٰہ گروپ کے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ، علاقے میں سکیورٹی پوسٹس قائم کر دی گئیں
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخواہ ذوالفقار حمید کی خصوصی ہدایت پر صوبہ بھر کے دہشت گردوں پرکاری ضرب لگانے کے لیے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تسلسل میں کوہاٹ ریجن کے علاقے بکولہ بدینے کے دشوار گزار پہاڑوں میں انتہائی خطرناک اور بدنام زمانہ کلیم اللہ گروپ سمیت دیگر دہشت گرد دھڑوں کے خلاف ایک جائنٹ آپریشن شروع کیا گیا جس میں کرک کی ضلعی پولیس اور سی ٹی ڈی نے حصہ لیا۔
آپریشن ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ عباس مجید مروت کی نگرانی میں ضلعی پولیس افیسر کرک شہباز الہی نے بذات خود کمانڈ کرتے ہوئے کیا جنہوں نے بہادر خیل کے علاقے میں بکولہ بدینے کی پہاڑیوں میں دہشت گردوں کی کئی مضبوط پناگاہوں کو نشانہ بنایا اور کئی اہم مورچے تباہ کر دیے، جنہیں دہشت گرد سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کرتے تھے۔ اس جامع آپریشن میں سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس، ایلیٹ فورس کے کمانڈوز سمیت 15 سکوارڈ اور پولیس موبائلز اور بکتر بند گاڑیوں نے بھی حصہ لیا جبکہ علاقے کی نگرانی کے لیے جدید ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔ آپریشن کے نتیجے میں انار بانڈہ، تنگی ڈاگ، نیکی پل اور سم بانڈا میں کئی اہم مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کی گئیں اور مشکوک افراد کی جانچ پڑتال کے علاوہ علاقے میں امن و امان کو بھی یقینی بنایا گیا۔
آرمی چیف کی والدہ ماجدہ کی نماز جنازہ ادا؛ اہم شخصیات کی شرکت
آئی جی خیبر پختون خواہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ کی سرزمین پر دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور ان کا ہر پہاڑی ہر درے تک پیچھا کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ آپریشنز دہشت گردوں کے لیے دو ٹوک پیغام ہیں کہ خیبر پختون خواہ پولیس دہشت گردی کی بیخ کنی کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: دہشت گردوں کے ضلعی پولیس سی ٹی ڈی کے لیے
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔