اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 05 اپریل 2025ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو بارودی سرنگوں، جنگوں میں استعمال ہونے والے گولہ بارود کی باقیات اور دھماکہ خیز مواد (آئی ای ڈی) سے خطرہ لاحق ہے۔

بارودی سرنگوں کے خطرے سے آگاہی کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ جنگیں ختم ہونے کے بعد بھی ان کی باقیات موجودہ رہتی ہیں جو کھیت کھلیانوں، راستوں اور سڑکوں پر معصوم لوگوں کی جان اور روزگار کے لیے خطرہ بنی رہتی ہیں۔

Tweet URL

افغانستان سے میانمار، سوڈان سے یوکرین، شام، مقبوضہ فلسطینی علاقے اور دیگر جگہوں تک یہ مہلک اسلحہ دیہی و شہری علاقوں میں بکھرا ہے جس سے لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اور انسانی امداد کی فراہمی اور ترقیاتی کوششوں کو خطرہ لاحق ہے۔

(جاری ہے)

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ہر گھنٹے اوسطاً ایک فرد ایسے گولہ بارود کی زد میں آ کر ہلاک یا زخمی ہو جاتا ہے اور ان میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔

امسال 'محفوظ مستقبل یہاں سے شروع ہوتا ہے' اس دن کا خاص موضوع ہے جو جنگوں میں تباہ شدہ جگہوں کی بحالی، متاثرین کو مدد دینے اور امن قائم کرنے میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے کام کا اہم کردار اجاگر کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کی کوششیں

بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ 'یو این مائن ایکشن سروس' (یو این ایم اے ایس) اس کام میں اختراع اور مشمولیت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے چھوٹے اور فوری تاثیر کے حامل منصوبوں پر سرمایہ کاری کے لیے زور دے رہا ہے جن کی بدولت جنگوں میں جسمانی طور پر معذور ہو جانے والے لوگوں کی ہنگامی ضروریات کو بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔

یہ کوششیں گزشتہ سال کانفرنس برائے مستقبل میں طے پانے والے مستقبل کے معاہدے میں کیے گئے وعدوں کا حصہ ہیں جس میں شہریوں کو تحفظ دینے اور ترقی پذیر ممالک میں ٹیکنالوجی اور اختراع کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی بات کی گئی ہے۔

'یو این ایم اے ایس' نے گزشتہ دو دہائیوں سے اپنے کام کو شہریوں، امن کاروں اور امدادی اداروں کو دھماکہ خیز مواد سے درپیش خطرات کے مطابق ڈھالا ہے۔

خاص طور پر ایسے علاقوں میں اس کا یہ کام اور بھی اہم ہے جو جنگ اور اس کے مابعد اثرات سے بری طرح متاثر ہیں۔بین الاقوامی اشتراک

بارودی سرنگوں کے خاتمے سے متعلق قومی ڈائریکٹروں اور اقوم متحدہ کے مشیروں کا 28 واں بین الاقوامی اجلاس 9 تا 11 اپریل جنیوا میں ہو رہا ہے۔ اس اجلاس کا انعقاد 'یو این ایم اے ایس' اور بارودی سرنگوں کی صفائی کے امدادی کام کے لیے جنیوا میں قائم بین الاقوامی مرکز نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔

اس موقع پر عالمی ماہرین اس شعبے کو درپیش اہم مسائل پر بات چیت کریں گے۔

سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی امدادی اصولوں کو برقرار رکھیں اور اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے متعلقہ معاہدوں میں شریک ہوں جن میں 'کلسٹر گولہ بارود سے متعلق کنونشن' اور 'مخصوص روایتی ہتھیاروں کے بارے میں کنونشن' بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگوں کی صفائی کے کام سے انسانی زندگی کو تحفظ ملتا ہے۔

اس دن پر سبھی کو محفوظ مستقبل کی تعمیر کے لیے فوری طور پر کام شروع کرنے کا عہد کرنا ہو گا۔صومالیہ کی مثال

افریقی ملک صومالیہ میں 'آئی ای ڈی' امن و سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ 2024 میں ہی ایسے 597 آلات کی زد میں آ کر 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

صومالیہ کے لیے سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندے جیمز سوان کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز آلات شہریوں کو بے اندازہ متاثر کرتے ہیں۔

آج کا دن ان لوگوں کو یاد کرنے کاموقع ہے جو ان مہلک آلات کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ علاوہ ازیں، یہ صومالی حکومت اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس مہلک خطرے میں کمی لانے کے عہد کی توثیق کا دن بھی ہے۔

صومالیہ میں خصوصی تربیت اور زندگی کو تحفظ دینے کے لیے درکار سازوسامان کی فراہمی کی بدولت اس مسئلے پر قابو پانے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ حال ہی میں 'یو این ایم اے ایس' نے صومالیہ کی سکیورٹی فورسز کو 'آئی ای ڈی' ناکارہ بنانے کے نئے آلات بھی فراہم کیے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بارودی سرنگوں کی صفائی یو این ایم اے ایس کا کہنا ہے کہ سیکرٹری جنرل بین الاقوامی گولہ بارود کے لیے

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم