منعم ظفر کی مفتی منیب الرحمان اور علامہ صادق جعفری سے ملاقات، یکجہتی غزہ مارچ میں شرکت کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
ملاقات کے دوران غزہ کی تباہی، اسرائیلی جارحیت اور امت مسلمہ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر مفتی منیب الرحمن اور علامہ صادق جعفری نے 13 اپریل کو شاہراہ فیصل پر ”یکجہتی غزہ مارچ“ کی بھرپور حمایت اور عوام سے شرکت کی اپیل کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی دارالعلوم نعیمیہ کے مہتمم مفتی منیب الرحمن اور مجلس وحدت مسلمین پاکستران کراچی ڈویژن کے صدر علامہ شیخ محمد صادق جعفری سے ملاقات کی اور اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کے لیے 13 اپریل کو شاہراہ فیصل پر عظیم الشان ”یکجہتی غزہ مارچ“ میں شرکت کی دعوت دی۔ ملاقات کے دوران غزہ کی تباہی، اسرائیلی جارحیت اور امت مسلمہ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر مفتی منیب الرحمن اور علامہ صادق جعفری نے 13 اپریل کو شاہراہ فیصل پر ”یکجہتی غزہ مارچ“ کی بھرپور حمایت اور عوام سے شرکت کی اپیل کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یکجہتی غزہ مارچ مفتی منیب شرکت کی
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔