پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں نئی تنظیم سازی کیلئے گائیڈ لائنز جاری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں نئی تنظیم سازی کے لیے طریقہ کار اور گائیڈ لائنز جاری کردی گئیں۔
تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے جاری اعلامیہ کے مطابق ضلعی تنظمیوں میں 9 مئی واقعات کے بعد اور گزشتہ عام انتخابات کے دوران فعال کارکنان کو پارٹی تنظیموں میں شامل کرنے کے لیے ترجیح دی جائے گی۔
9 مئی کے واقعات کے بعد غیر فعال رہنے والے کارکنان اور سرکاری عہدہ رکھنے والوں کو بھی پارٹی تنظیموں میں شامل نہ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
پارٹی کے اعلامیہ کے مطابق تحریک انصاف کی تنظمیں بنانے کے لیے پینل تشکیل دیے جائیں، پارٹی کے ریجنل صدور اور جنرل سیکرٹریز ضلعی سطح پر پینل تیار کریں گے۔
تنظیموں میں نااہل، غیر فعال اور متنازع رہنماء شامل نہیں ہوں گے، ریجن کے عہدیداروں کی تقرری 29 اپریل، ضلعی عہدیداروں کی 9 مئی جبکہ تحصیل عہدیداروں کی تقرری 23 مئی تک مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
پی ٹی آئی اعلامیہ کے مطابق نئی تنظیموں کی حتمی منظوری کا اختیار صرف پارٹی کے صوبائی صدر کو حاصل ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔