کراچی: کینال منصوبے کیخلاف گلشن حدید لنک روڈ پر وکلاء کا احتجاج جاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
فوٹو بشکریہ پی پی آئی
کراچی میں کینال منصوبے کے خلاف گلشن حدید لنک روڈ پر وکلاء کا احتجاج جاری ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق نیشنل ہائی وے سے جانے والے لنک روڈ کے دونوں ٹریک ٹریفک کےلیے بند ہیں۔
ٹرانسپورٹرز نے کہا کہ 11 روز سے سکھر احتجاج میں 40 ہزار کے قریب مال بردار گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔
ٹریفک پولیس نے بتایا کہ کراچی سے ٹھٹہ آنے اور جانے والے دونوں ٹریک بھی ٹریفک کےلیے بند ہیں اور کراچی سے ٹھٹہ جانے والے ٹریفک کو پورٹ قاسم چورنگی سے پورٹ قاسم کی جانب بھیجا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کو سنبھالنے کے لیے گلشن حدید لنک روڈ پر ریپڈ ریسپانس فورس کی نفری پہنچی۔
اس حوالے سے ایس ایس پی ملیر کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ مذاکرات سے احتجاج کو ختم کروائیں، اگر مذاکرات کے بعد بھی روڈ نہیں کھولا گیا تو کارروائی کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لنک روڈ
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔