لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ نے دعویٰ کیاہے کہ برطانوی دارالحکومت میں مجھ پر ’’انتہائی سنگین‘‘ حملہ کیا گیا، جس میں بمشکل جان بچا پایا ہوں۔

سوشل میڈیا پر جاری ایک مختصر ویڈیو میں رجب بٹ کی گاڑی کے ٹوٹے ہوئے شیشے دکھائی دیے، جبکہ وہ خود ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولتے نظر آئے۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ سامنے آئے اور صورتحال کی وضاحت کی۔ ’’یہ کوئی مذاق یا ڈرامہ نہیں، بلکہ ایک المناک حقیقت ہے‘‘۔

سٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کا اجلاس پیر کو طلب، شرح سود میں کمی کا امکان

رجب بٹ نے بتایا کہ حملہ شدید نوعیت کا تھا اور وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ وہ اس میں زندہ بچ گئے۔ تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے انہوں نے وعدہ کیا کہ آنے والے دنوں میں ایک مکمل وی لاگ جاری کریں گے جس میں تمام حقائق سامنے آئیں گے۔

اس موقع پر انہوں نے اپنے مداحوں سے دعاؤں کی درخواست کی اور ایک بڑا اعلان بھی کیا۔ ’’میں جلد پاکستان واپس آ رہا ہوں‘‘۔ لیکن اس سلسلے میں مزید تفصیلات کو اپنے اگلے ویڈیوز کے لیے محفوظ رکھا۔یاد رہے کہ رجب بٹ کچھ عرصہ قبل ایک متنازعہ ویڈیو کے بعد ملک چھوڑ کر لندن منتقل ہو گئے تھے۔ 

ترک دلہن نے جہیز میں ملنے والا 1 کروڑ 12 لاکھ مالیت کا سونا غزہ کیلئے عطیہ کردیا

ذرائع کے مطابق، رجب بٹ کو پہلے بھی سنگین دھمکیوں کا سامنا رہا ہے، جو شاید ان کے بیرون ملک مقیم ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اب یہ نئی واردات ان کے مداحوں کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ کیا یہ واقعی ایک قاتلانہ حملہ تھا؟ یا پھر کچھ اور ہی معاملہ ہے؟ جواب شاید رجب بٹ کے اگلے ویلاگ میں ملے گا۔

'میں پوپ بننا چاہوں گا'، ٹرمپ کا ازراہ مذاق بیان

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت