اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ماحولیاتی طور پر بہتر اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کے تحت الیکٹرک ٹرام سروس متعارف کرانے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔

اس حوالے سے چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) محمد علی رندھاوا نے نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) کے حکام کے ساتھ اجلاس کے بعد منصوبے کی تصدیق کی۔

رندھاوا کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ کی ہدایات کے تحت ٹرام منصوبے کے لیے فزیبلیٹی اسٹڈی کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا:بسیں پہلے ہی چل رہی ہیں، اب ہم الیکٹرک ٹرامز کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ فزیبلیٹی اسٹڈی اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرے گی۔”

سی ڈی اے کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں “سوفٹ وہیل الیکٹرک ٹرامز” کو فعال کرنے اور موجودہ الیکٹرک فیڈر بس نیٹ ورک کو بہتر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔چیئرمین سی ڈی اے نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ فزیبلیٹی رپورٹ جلد از جلد مکمل کی جائے تاکہ اسلام آباد کے مصروف ترین راستوں پر ٹرام سروس شروع کی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے لیے ایک چینی مشاورتی فرم کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ ابتدائی طور پر جن چار روٹس پر کام کیا جا رہا ہے، ان میں راوت سے فیصل مسجد تک ایکسپریس وے کے ذریعے، اور جناح اسکوائر سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک سری نگر ہائی وے کے ذریعے ٹرام سروس کی تجویز شامل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: الیکٹرک ٹرام اسلام ا باد

پڑھیں:

نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ