حج پرمٹ کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں، سعودی وزارت داخلہ کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
سعودی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ حج کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایسے افراد جو بغیر اجازت نامے کے حج کرنے کی کوشش کریں گے یا کسی کی مدد سے مکۃ المکرمہ اور مقدس مقامات تک پہنچیں گے، ان پر بھاری جرمانے عائد ہوں گے۔
عرب نیوز کے مطابق وزارت نے واضح کیا کہ بغیر اجازت نامے کے حج کرنے یا کوشش کرنے والوں پر 20 ہزار ریال (قریباً 5,333 امریکی ڈالر) تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد جو غیرقانونی طریقے سے لوگوں کو مکہ یا مقدس مقامات میں داخل ہونے میں مدد دیں گے، انہیں 100 ہزار ریال تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: رواں برس پاکستانی عازمین حج کو جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے جامع انتظامات
کسی کو وزٹ ویزے کی سہولت دینا، غیر قانونی افراد کو ہوٹل، اپارٹمنٹس یا دیگر رہائش گاہوں میں ٹھہرانا، یا کسی بھی طریقے سے ان کی مدد کرنا بھی شامل ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں گرفتاری، ملک بدری، اور 10 سال کے لیے دوبارہ داخلے پر پابندی بھی لگائی جائے گی۔ خلاف ورزی کے لیے استعمال شدہ گاڑی مجرم یا اس کے ساتھی کی ملکیت ہوئی تو عدالت اس گاڑی کو ضبط بھی کرسکتی ہے۔
وزارت نے عوام پر زور دیا کہ وہ حج سے متعلق قوانین کی مکمل پابندی کریں تاکہ حجاج کرام کی حفاظت، سلامتی، اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دینے کے لیے مکہ، ریاض، اور مشرقی صوبے کے رہائشی 911 پر کال کریں، جبکہ دیگر علاقوں کے شہری 999 پر رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حج حج پرمٹ سعودی وزارتِ داخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی وزارت داخلہ خلاف ورزی کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔